صفات باری تعالیٰ

by Other Authors

Page 118 of 153

صفات باری تعالیٰ — Page 118

عباد الرحمان کی خصوصیات صحابہ کی خشیت اور عذاب جہنم سے ڈرنے اور خدا تعالیٰ کی مغفرت چاہنے کا بھی عجیب نظارہ ہوتا تھا۔ان کی روحیں ہر آن بہہ کر خدائے واحد کے آستانہ پر سر بسجود رہتی تھیں۔حد درجہ کے جری اور بہادر ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ کے خوف سے ہر وقت لرزاں رہتے تھے۔حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں کہ عہد نبوت میں اگر کبھی تیز ہوا بھی چلتی تھی تو مسلمان خوف الہی سے کانپتے ہوئے مسجد کی طرف بھاگ اٹھتے تھے۔“ (ابوداؤد كتاب الصلوة عند الظلمة ونحوها) حضرت عثمان کے دل پر اللہ تعالیٰ کا خوف اس قدر طاری رہتا تھا کہ جب کوئی جنازہ ۱۸ سامنے سے گذرتا تو آپ کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو جاتے تھے۔قبرستان سے گزر ہوتا تو آپ پر رقت طاری ہو جاتی تھی۔حضرت عبد الرحمان بن عوف باوجود یکہ بہت دولت مند تھے مگر خشیت اللہ اور تقویٰ سے قلب معمور تھا اور دنیوی نعماء ان کے لئے کسی ابتلاء کے بجائے از دیا دایمان کا موجب ہوتی تھیں۔ایک دفعہ تمام دن روزہ سے رہے شام کے وقت کھانا آیا تو اسے دیکھ کر رو پڑے اور فرمایا: مصعب بن عمیر مجھ سے بہتر تھے مگر وہ شہید ہوئے تو کفن میں صرف ایک چادر تھی جس سے سر چھپاتے تو پاؤں ننگے ہو جاتے تھے اور پاؤں چھپاتے تھے تو سر نگا ہو جاتا۔اسی طرح حضرت حمزہ شہید ہوئے تو یہی حالت تھی۔مگر اب دنیا ہمارے لئے فراخ ہوگئی ہے اور اس کی نعمتیں بکثرت حاصل ہوگئی ہیں اور میں ڈرتا ہوں ہمیں کہیں اپنی نیکیوں کا صلہ یہیں نہ مل جائے اور اس قدر رقت طاری ہوئی کہ کھانے سے ہاتھ کھینچ لیا۔“ (بخاری کتاب المغازى باب غزوة احد) و یا صحابہ کرام ہر وقت عُسر ہو یا ئیسر خدا تعالیٰ کے خوف سے لرزاں رہتے تھے تا کہیں