صفات باری تعالیٰ

by Other Authors

Page 42 of 153

صفات باری تعالیٰ — Page 42

صفات باری تعالى يعنى الأسماء الحسنى طور پر نازل فرمائی تا کہ حقیقی غلبہ۔تائید و نصرت حاصل کر سکیں اور اس کا ذریعہ یہ ہے کہ وَ اعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا (آل عمران : ۱۰۴) تم سب اکٹھے ہو کر اس کی رسی کو پکڑے رکھو۔اس کے نتیجہ میں یہ فرض کر دیا گیا ہے کہ غلبہ اور تائید و نصرت الہی تمہیں حاصل ہوگی۔پس چاہیے کہ ہم کتاب اللہ کو مضبوطی سے تھام لیں اور اس میں جو خدا تعالیٰ کے حسن اور احسان سے پر ذات بیان کی گئی ہے اس سے وابستہ ہو جائیں تا کہ اس کے حسن و احسان کے جلوے ہمارے بھی نصیب میں ہوں۔آمین حضرت موسیٰ علیہ السلام بظاہر کسمپرسی کی حالت میں مصر سے ہجرت فرما کر مدین میں تشریف لائے تو وہاں آپ نے یہ دعا کی اور کہا رَبِّ إِنِّي لِمَا اَنْزَلْتَ إِلَى مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ اے میرے رب اپنی خیر اور بھلائی میں سے جو کچھ تو مجھ پر نازل فرمائے تو میں تو اس کا سخت محتاج ہوں۔یہ دعا قبولیت کا شرف حاصل کر گئی اور پھر آپ پر دین و دنیا کی حسنات نازل ہوتی رہیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ دعا محفوظ فرما دی تا کہ آئندہ بھی مومنین اس کے ذریعہ خیر المنز لین کی انزال رحمت کے نظارے دیکھتے رہیں۔أم الصفات رحمان کے تحت صفات الہیہ ” دوسری خوبی خدا تعالیٰ کی جو دوسرے درجہ کا احسان ہے۔۔۔۔رحمانیت ہے جس کو سورۃ فاتحہ میں الرحمن کے فقرہ میں بیان کیا گیا ہے اور قرآن شریف کی اصطلاح کی رُو سے خدا تعالیٰ کا نام رحمن اس وجہ سے ہے کہ اُس نے ہر ایک جاندار کو جن میں انسان بھی داخل ہے اُس کے مناسب حال صورت اور سیرت بخشی یعنی جس طرز کی زندگی اس کے لئے ارادہ کی گئی اس زندگی کے مناسب حال جن قوتوں اور طاقتوں کی ضرورت تھی یا جس قسم کی بناوٹ جسم اور اعضاء کی حاجت تھی وہ سب اس کو عطا کئے اور پھر اس کی بقا کے لئے جن جن چیزوں کی ضرورت تھی وہ اس کے لئے مہیا کیں۔پرندوں کے لئے پرندوں کے ۴۲