صفات باری تعالیٰ

by Other Authors

Page 29 of 153

صفات باری تعالیٰ — Page 29

یعنی الأسماء الحسنى فاتحہ میں کر دی گئی ہے۔وہ اس طرح کہ دعا لکھ دی اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ جو عبودیت کے مقام کی جستجو کرتے ہوئے استعانت کا طالب ہوگا اس کو نتیجتا ضرور ہدایت حاصل ہوگی اور اس کی روحانی اعتبار سے بھی ربوبیت ہوگی اور جسمانی اعتبار سے بھی یا یوں کہہ لیں کہ دنیاوی لحاظ سے بھی اور آخرت کے لحاظ سے بھی وہ منعم علیہم گروہ میں شامل ہو کر انعامات روحانی کا وارث ہوگا۔بمطابق سورۃ نساء آیت اے آنحضرت صلی لا یتیم کی کامل اطاعت کے نتیجہ میں نبوت ، صدیقیت ، شہیدیت اور صالحیت کے انعام پائے گا۔اس صفت کے مظہر کامل ہمارے آقا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں کہ آپ کی اطاعت کامل سے روحانی انعامات ممکن الحصول ہیں اور یہ انعامات صالحیت ، شہید یت ، صدیقیت و نبوت کے انعامات ہیں۔(سورۃ النساء آیت ۷۱) ۱۲_ الذَّارِئ ۲۹ پھیلانے والا۔فرمایا: فَاطِرُ السَّمَوتِ وَ الْاَرْضِ جَعَلَ لَكُم مِّنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا وَ مِنَ الْأَنْعَامِ اَزْوَاجًا ۚ يَذْرَؤُكُمْ فِيْهِ لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٍ ۚ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ (الشورى: ۱۲) وہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے۔اسی نے تمہاری ہی جنس سے تمہارے ساتھی بنائے ہیں اور چار پایوں کے بھی جوڑے بنائے ہیں اور اس طرح وہ تم کو زمین میں بڑھاتا ہے۔اس جیسی کوئی چیز نہیں اور وہ بہت سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔۱۳ - الْمُدَتِر تدبیر کرنے والا یعنی اس طور پر امور عالم سر انجام دینے والا کہ جن کا انجام نیک ہو اور نتیجہ عمدہ بر آمد ہو۔فرمایا :