صفات باری تعالیٰ

by Other Authors

Page 27 of 153

صفات باری تعالیٰ — Page 27

یعنی الأسماء الحسنى ވ وَهُوَ يُطْعَمُ۔(الانعام : ۱۵) اور وہ کھلاتا ہے ) پس ان امور کی وجہ سے اس کی دوستی بھلی معلوم ہوتی ہے۔اس کے اتنے احسانات ہیں کہ شمار میں نہیں آسکتے۔العَالِمُ جاننے والا علم کامل ربوبیت کے لئے ضروری ہے۔فرمایا: إنَّ اللَّهَ عَلِمُ غَيْبِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ۔(الفاطر:۳۹) اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کا غیب جاننے والا ہے۔پھر فرمایا: ۲۷ علِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ الْكَبِيرُ الْمُتَعَالِ (الرعد: ١٠) وہ غائب اور حاضر دونوں کا جاننے والا ہے۔بڑے مرتبہ والا اور بڑی شان والا ہے۔اللہ تعالیٰ اپنے علم کامل کی بناء پر عالم میں ہر ایک کی ربوبیت کر رہا ہے۔ایسے کہ کوشش اور خواہشات اور دعا کے بغیر تمام کارخانہ عالم کو چلا رہا ہے اور دوسری طرف کوشش اور دعا کا خیال بھی رکھ رہا ہے کیونکہ یہ بھی اس کے احاطہ علم میں ہیں۔وہ خالق کل ہے اس لئے عالم بھی ہے۔۹ - الرَّزَّاقُ مخلوقات کو روزی پہنچانے والا۔رزاق۔مبالغہ کا صیغہ ہے مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ تمام مخلوقات کو مناسب حال اور موافق حکمت رزق پہنچاتا ہے۔رزق ان کے لئے بھی اور ان کی ارواح کے لئے بھی۔فرمایا: وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيَّ (الانبياء : ۳۱) اور ہم نے پانی سے ہر چیز کو زندہ کیا ہے اور ان کی حیات کا موجب بھی پانی ہے اور ارواح کی حیات بھی روحانی پانی یعنی وحی پر موقوف ہے۔اسی لئے فرمایا: