صفات باری تعالیٰ

by Other Authors

Page 25 of 153

صفات باری تعالیٰ — Page 25

یعنی الأسماء الحسنى ه الْخَلَّاق بہت بڑا اندازہ کرنے والا اور خلق پر خلق کرنے والا۔قرآن کریم میں یہ اسم ایک اور اسم علیہم کے ساتھ مل کر آیا ہے۔کیونکہ خلاقیت کی صفت ایک عالم ہستی کا تقاضا کرتی ہے جیسا کہ فرمایا: أَوَ لَيْسَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَوتِ وَالْاَرْضَ بِقَدِرٍ عَلَى أَنْ يَخْلُقَ مِثْلَهُم " بَلَى وَهُوَ الْخَلْقُ الْعَلِيمُ - (يس: ۸۲) ۲۵ کیا وہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اس بات پر قادر نہیں کہ ان کی طرح کی اور مخلوق پیدا کر دے۔ایسا خیال ( کہ وہ پیدا نہیں کرسکتا ) یہ درست نہیں بلکہ وہ بہت پیدا کرنے والا اور بہت جاننے والا ہے اور اب سائنسی تحقیقات نے بھی منکشف کر دیا ہے کہ جب دو Galaxies کے درمیان اتنی جگہ پیدا ہو جاتی ہے کہ ایک گلیکسی سما سکے تو ایک نئی گلیکسی نیست سے ہست میں آجاتی ہے۔اور اس کی خالقیت کا قصہ اس طرح چل رہا ہے اسی طرح سورہ حجر میں فرمایا: إِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْخَلَّاقُ الْعَلِيمُ - (الحجر: ۸۷) یعنی ربوبیت عالمین کے جلوے اس کی خالقیت اور علمیت کے ذریعہ ظاہر ہورہے ہیں۔- الصَّانِعُ بنانے والا ، ترکیب دینے والا صانع حقیقی خدا تعالیٰ کی ذات ہے جس کی صفت بے نقص ہے جیسے کہ فرمایا: صُنْعَ اللَّهِ الَّذِي أَتْقَنَ كُلَّ شَيْءٍ إِنَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَفْعَلُونَ (النمل: ۸۹) یہ اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی چیز ہے جس نے ہر چیز کو مضبوط بنایا ہے۔وہ تمہارے اعمال