صفات باری تعالیٰ

by Other Authors

Page 136 of 153

صفات باری تعالیٰ — Page 136

عباد الرحمان کی خصوصیات ۳۶ کرو جو اولاد کے لیے بہترین نمونہ اور سبق ہو اور اس کے لیے ضروری ہے کہ سب سے اول خود اپنی اصلاح کرو۔اگر تم اعلیٰ درجہ کے متقی اور پر ہیز گار بن جاؤ گے اور خدا تعالیٰ کو راضی کر لو گے تو یقین کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری اولا د کے ساتھ بھی اچھا معاملہ کرے گا۔“ (الحکم ۱۰ رنومبر ۱۹۰۵ء) دین کی راہ میں صحابہ کرام کیا مرد اور کیا عورتیں ہر رنگ میں قربانی کرنے کے لئے کمر بستہ نظر آتے تھے۔تاریخ میں لکھا ہے کہ حضرت عمر کے زمانہ میں جب عراق میں قادسیہ کے مقام پر جنگ جاری تھی تو حضرت خنساء جو زمانہ جاہلیت میں ایک بہت بڑی شاعر تھیں جنہوں نے اپنے ایک بھائی کی وفات پر اتنے درد انگیز مرجیے کہے تھے کہ سخت سے سخت دل انسان کا پتہ بھی پانی ہوا جا تا تھا۔ہاں انہی حضرت خنساء نے اپنے چار جگر گوشوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اے پیارے بیٹو! اسلام کی خاطر قربانی کرنا تمہارا فرض ہے۔خدا کی قسم میں نے نہ کبھی تمہارے باپ سے خیانت کی اور نہ تمہارے ماموں کو کبھی رسوا کیا۔یہ دنیا چند روزہ ہے اور اس میں جو آیا ایک نہ ایک دن مرے گا لیکن خوش بخت ہے وہ انسان جسے خدا کی راہ میں جان دینے کا موقع ملے۔اس لئے صبح اٹھ کر لڑنے کے لئے میدان میں نکلو اور آخر وقت تک لڑو۔کامیابی کے ساتھ واپس آؤ یا شہادت کا مرتبہ پاؤ۔سعادت مند بیٹوں نے وقت کی نزاکت کو سمجھا، دین کی ضرورت ان کے سامنے تھی۔ماں سے رخصت ہوئے اور چاروں ایک ساتھ گھوڑوں کی باگیں تھامے میدان جنگ میں کود گئے۔دلاور ماں کے دلاور بیٹے ایک ایک کر کے چاروں کے چاروں جام شہادت نوش کر کے مولائے حقیقی سے جاملے۔انَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔جب یہ خبر بہادر اور دلیر ماں کو سنائی گئی تو خدا تعالیٰ کے حضور۔۔۔سجدہ میں گر پڑی اور کہنے لگی کہ مولا تیرا شکر ہے کہ تو نے میری ساری عمر کی دولت، میری ساری عمر کی کمائی قبول کر لی۔مولیٰ تیرا شکر ہے کہ تو نے میرے چاروں بیٹوں کو قبول فرما کر سرفراز فرمایا۔“ (اسدالغابہ)