صفات باری تعالیٰ — Page 123
عباد الرحمان کی خصوصیات میرے بائیں لا کر کھڑا کر دیں تب بھی میں خدا تعالیٰ کی توحید کے اعلان سے باز نہیں رہ سکتا۔پھر آپ کی آنکھوں کے سامنے محض تو حید کو تسلیم کرنے کے مجرم میں آپ کے عزیز ترین صحابہ پر بڑے بڑے مظالم توڑے گئے خود آپ کو اور آپ کے خاندان کو ان کے پیہم مظالم کا تختہ مشق بننا پڑا مگر آپ نے ان تمام تکالیف کے باوجود دنیا کی ہر اُس قوم سے لڑائی کی جو توحید کی دشمن تھی۔آپ نے مشرکین مکہ کا بھی مقابلہ کیا جو سینکڑوں بتوں کے پجاری تھے۔آپ نے یہود کا بھی مقابلہ کیا جو عزیر کو خدا تعالیٰ کا بیٹا قرار دیتے تھے آپ نے مجوسیوں کا بھی مقابلہ کیا جو آگ کے پجاری تھے اور آخر عرب میں نہیں بلکہ ساری دنیا میں توحید کو غالب کر کے دکھا دیا اور بتوں کے پرستاروں کو خدائے واحد کے آستانہ پر لا ڈالا۔پھر جب آپ کی وفات کا وقت آیا تو حدیثوں میں آتا ہے کہ آپ کرب واضطراب کے ساتھ کبھی ایک کروٹ بدلتے اور کبھی دوسری اور بار بار فرماتے کہ خدا تعالیٰ یہود اور نصاریٰ پر لعنت کرے کہ انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا اس طرح آپ نے صحابہ کرام کو نصیحت فرمائی کہ دیکھنا میری قبر کو کبھی سجدہ گاہ نہ بنانا۔دیکھنا میرے بشر ہونے کے مقام کو کبھی فراموش نہ کرنا۔چنانچہ آپ کی اس تعلیم اور تعہد کا نتیجہ ہے کہ آج دنیا میں قریہ قریہ میں دن کی روشنی اور رات کی تاریکی میں پانچ مرتبہ یہ آواز بلند ہوتی سنائی دیتی ہے کہ آشْهَدُ آن لا إلهَ إِلَّا اللهُ وَاشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ “ ( تفسیر کبیر جلد ششم صفحه ۵۷۵) ۲۳ آج پھر کفر و ضلالت کا دور دورہ ہے اور توحید باری کے قیام کے لئے صحابہ کی طرح مالی، جانی ، لسانی و قلبی اور وقت کی قربانی دینے کی ضرورت ہے تا ایک دفعہ پھر دنیا کے چپہ چپہ سے کلمہ توحید کی صدا سنائی دینے لگے اور خدائی نور سے دنیا ڈھانپی جائے۔