صفات باری تعالیٰ

by Other Authors

Page 99 of 153

صفات باری تعالیٰ — Page 99

یعنی الأسماء الحسنى اسلام کے خدا کی بابت ہی لکھا ہے۔نہ کہ ایک مردہ مصلوب اور عاجز خدا کی بابت۔ہم دعوئی سے کہتے ہیں کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی ہستی اور وجود پر قلم اٹھائے گا۔اس کو آخر کار اسی خدا کی طرف آنا پڑے گا۔جو اسلام نے پیش کیا ہے، کیونکہ صحیفہ فطرت کے ایک ایک پتے میں اس کا پتہ ملتا ہے۔اور بالطبع انسان اسی خدا کا نقش اپنے اندر رکھتا ہے۔“ پھر آپ علیہ السلام نے فرمایا: ( ملفوظات جلد اول صفحہ ۷۹) اسلام کا خدا وہی سچا خدا ہے جو آئینہ قانون قدرت اور صحیفہ فطرت سے نظر آرہا ہے۔اسلام نے کوئی نیا خدا پیش نہیں کیا بلکہ وہی خدا پیش کیا ہے جو انسان کا نور قلب اور انسان کا کانشنس اور زمین اور آسمان پیش کر رہا ہے۔“ تبلیغ رسالت جلد ششم صفحه ۱۵) آخر میں عرض ہے کہ کا مضمون ایک سمندر ہے جس کے کچھ قطرات پیش کئے گئے ہیں۔بنیادی طور پر صفات باری کا کسی قدر سمجھنا ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے۔تا اس کی عبادت میں چاشنی پیدا ہو سکے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: و۔۔وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا وَذَرُوا الَّذِيْنَ يُلْحِدُونَ فِي أَسْمَائِهِ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (الأعراف:۱۸۱) اللہ تعالیٰ کے لئے تو اچھے ہی نام ہیں انہی ناموں سے اس کو پکارو اور ان لوگوں سے علیحدہ ہو جاؤ جو اللہ تعالیٰ کے اسماء میں الحاد کرتے ہیں وہ عنقریب اپنی کرتوتوں کا بدلہ پالیں گے۔کسی نے خدا کا نام لات و منات اور کسی نے تثلیث کے اقنوم ثلاثہ کے نام خدا کو دے دیئے اور کسی نے قبر پرستی کے ذریعہ سے سینکڑوں چھوٹے موٹے خدا بنالئے۔قرآن کریم کے مطابق یہ سب يُلْحِدُونَ فِي أَسْمَائِهِ کے مصداق ہیں۔٩٩