صفات باری تعالیٰ

by Other Authors

Page 127 of 153

صفات باری تعالیٰ — Page 127

عباد الرحمان کی خصوصیات استغفار کرتے ہیں تا خدا اپنی محبت میں تھامے رکھے۔اور دوسری قسم استغفار کی یہ ہے کہ گناہ سے نکل کر خدا کی طرف بھاگنا اور کوشش کرنا کہ جیسے درخت زمین میں لگ جاتا ہے ایسا ہی دل خدا کی محبت کا اسیر ہو جائے تا پاک نشو و نما پا کر گناہ کی خشکی اور زوال سے بچ جائے اور ان دونوں صورتوں کا نام استغفار رکھا گیا۔سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحه ۳۴۶۔۳۴۷) استغفار کے بعد توبہ کا درجہ ہے اور توبہ کے کئی مدارج ہیں جن کے بغیر تو بہ مکمل نہیں ہوتی۔سچی تو بہ وہی ہے جس کے بعد نیکیاں کرنے یعنی اعمال صالحہ کی توفیق ملے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: یہ بات بھی یا درکھنی چاہیے کہ تو بہ کے لئے تین شرائط ہیں۔بدوں اُن کی تکمیل کے سچی توبہ جسے تو بۃ النصوح کہتے ہیں، حاصل نہیں ہوتی۔ان ہرسہ شرائط میں سے پہلی شرط جسے عربی زبان میں اقلاع کہتے ہیں۔یعنی ان خیالات فاسدہ کوڈ ورکر دیا جاوے جوان خصائل ردیہ کے محرک ہیں۔۲۷ اصل بات یہ ہے کہ تصورات کا بڑا بھاری اثر پڑتا ہے ، کیونکہ حیطۂ عمل میں آنے سے پیشتر ہر ایک فعل ایک تصوری صورت رکھتا ہے۔پس تو بہ کے لئے پہلی شرط یہ ہے کہ ان خیالات فاسده و تصورات بد کو چھوڑ دے۔مثلاً اگر ایک شخص کسی عورت سے کوئی ناجائز تعلق رکھتا ہو، تو اُسے تو بہ کرنے کے لئے پہلے ضروری ہے کہ اس کی شکل کو بدصورت قرار دے اور اس کی تمام خصائل رذیلہ کو اپنے دل میں مستحضر کرے، کیونکہ جیسا کہ میں نے ابھی کہا ہے۔تصورات کا اثر بہت زبردست اثر ہے اور میں نے صوفیوں کے تذکروں میں پڑھا ہے کہ انہوں نے تصور کو یہانتک پہنچایا کہ انسان کو بندر یا خنزیر کی صورت میں دیکھا۔غرض یہ ہے کہ جیسا کوئی تصور کرتا ہے، ویسا ہی رنگ چڑھ جاتا ہے۔پس جو خیالات بالذات کا موجب سمجھے جاتے تھے ان کا قلع قمع کرے۔یہ پہلی شرط ہے۔دوسری شرط ندم ہے یعنی پشیمانی اور ندامت ظاہر کرنا۔ہر ایک