صفات باری تعالیٰ

by Other Authors

Page 117 of 153

صفات باری تعالیٰ — Page 117

۱۷ عباد الرحمان کی خصوصیات ہوس پرستی کے جہنم سے بچا۔ہمیں خود سری اور جھوٹ ، ظلم اور تعدی کے جہنم سے بچا۔ہمیں اپنی محبت اور رضا سے دوری کے جہنم سے بچا۔ہمیں اپنی آئندہ نسلوں کی خرابی کے جہنم سے بچا۔ہمیں کفر اور شیطنت کے جہنم سے بچا۔ہمیں لامذہبیت اور اباحت کے جہنم سے بچا۔ہمیں منافقت اور بے ایمانی کے جہنم سے بچا۔کیونکہ خواہ یہ برائیاں ہم میں عارضی طور پر پیدا ہوں یا مستقل طور پر بہر حال ان کا پیدا ہونا ہمارے لئے تباہی اور رسوائی کا باعث ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ مستقل طور پر ان خرابیوں کا پیدا ہونا تو الگ رہا ہم میں عارضی طور پر اور وقتی طور پر بھی یہ خرابیاں پیدا نہ ہوں اور ہمیشہ ہمارا قدم صراط مستقیم پر قائم رہے۔گویا وہی دُعا جو سورۃ فاتحہ میں غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ کے الفاظ میں سکھائی گئی ہے اس جگہ رَبَّنَا اصْرِفُ عَنَا عَذَابَ جَهَنَّمَ کے الفاظ میں دُہرا دی گئی ہے۔عبادالرحمن کی پانچویں خصوصیت اور اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندوں کی یہ علامت بتائی گئی ہے کہ باوجود ا سکے کہ انہیں دنیا پر غلبہ حاصل ہوتا ہے پھر بھی قومی تنزل کا خوف ہر وقت اُن کو آستانہ ایزدی پر جھکائے رکھتا ہے اور وہ رات دن دُعائیں کرتے رہتے ہیں کہ الہی ہم میں اور ہماری آئندہ نسلوں میں کسی قسم کی خرابی پیدا نہ ہوتا کہ وہ جنت جو تُو نے محض اپنے فضل سے ہمیں عطا فرمائی ہے وہ ہمیشہ قائم رہے اور کوئی ابلیس سانپ کی شکل اختیار کر کے ہماری ایڑی کو نہ کاٹ لے۔اگر مسلمان اپنے غلبہ کے اوقات میں اس قرآنی دُعا کو ہمیشہ یادر کھتے اور ہر کامیابی کے حصول پر قومی تنزل کے خطرات سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے تو اللہ تعالیٰ اُن پر دائمی طور پر اپنا فضل نازل کرتا اور ہمیشہ اُن کا قدم ترقی کے میدان میں آگے ہی آگے بڑھتارہتا۔“ ( تفسیر کبیر جلد ششم صفحه ۵۶۵-۵۶۶)