صدق المسیح

by Other Authors

Page 5 of 64

صدق المسیح — Page 5

اسی لئے بزرگان اسلام نے صاف طور پر فرمایا تھا کہ جب امام مہدی مبعوث ہوں گے تو ظاہر پرست علماء ان کی مخالفت کریں گے۔چنانچہ شیخ الاکبر حضرت محی الدین ابن عربی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:۔"وَإِذَا خَرَجَ هَذَا الْإِمَامُ الْمَهْدِيُّ فَلَيْسَ لَهُ عَدُوٌّ مُّبِينٌ إِلَّا الْفُقَهَاءُ خَاصَّةَ فَإِنَّهُ لَا يَبْقَى لَهُمْ رِيَاسَةٌ وَلَا تَمِيْزٌ عَن العَامَّةِ۔فتوحات مكية جلد ۳ صفحه : ۳۷۴) کہ جب امام مہدی آئیں گے تو اُن کے کھلے دشمن اس زمانے کے علماء و فقہاء ہوں گے کیونکہ ان کی سرداری اور تمیز ختم ہو جائیگی۔چنانچہ حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں اُس زمانہ کے علماء نے اپنی تمام تر صلاحیتوں سے جماعت احمدیہ اور بانی جماعت کا مقابلہ کیا اسکا انجام کیا ہوا۔قارئین جماعت اسلامی کے سرگرم رکن مولوی عبد الرحیم صاحب اشرف کے اس اعتراف کو گوش گذار کریں۔موصوف لکھتے ہیں :- ”ہمارے واجب الاحترام بزرگوں نے اپنی تمام تر صلاحیتوں سے قادیانیت کا مقابلہ کیا لیکن یہ حقیقت سب کے سامنے ہے کہ قادیانی جماعت پہلے سے زیادہ مستحکم اور وسیع ہو گئی ہے۔مرزا صاحب کے مقابلہ پر جن لوگوں نے کام کیا ان میں اکثر تقویٰ تعلق باللہ، دیانت ، خلوص، علم اور اثر کے اعتبار سے پہاڑوں جیسی شخصیت رکھتے تھے۔جیسے نذیرحسین صاحب دہلوی، مولانا انورشاہ صاحب دیوبندی، مولانا عبدالجبار غزنوی ، مولانا قاضی سلیمان منصور پوری، مولانا محمد حسین بٹالوی، مولانا ثناء اللہ امرتسری اور دوسرے اکابر لیکن ہم اس تلخ نوائی پر مجبور ہیں کہ ان اکابر کی تمام تر کوششوں کے باوجود قادیانی جماعت میں اضافہ ہوا۔(المبنر لائکیپور ۲۳۰ فروری ۶۵۶) 5