صدق المسیح — Page 34
-- و وَرَواهِ الْعَالِمُ فِي الْمُسْتَدْرِكِ وَ قَالَ صَحِيْحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ۔“ ابن ماجہ کتاب الفتن باب خروج المهدی جلد ۲ صفحه ۲۶۹ حاشیه مطبوعه مصر) کہ حدیث هَذَا خَلِيفَةُ اللهِ الْمَهْدِى “ کو امام سیوطی نے بھی ذکر کیا ہے اور زوائد میں ہے کہ اس حدیث کی سند صحیح ہے اور اسکے راوی ثقہ ہیں اسکوامام حاکم نے مستدرک کتاب التواريخ باب تذكرة الانبياء هبوط عيسى و اشاعۃ الاسلام“ میں درج کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث بخاری و مسلم کی شرائط کے مطابق بھی صحیح ہے نیز یہ حدیث ابوالنعیم اور تلخیص المُتَشَابِه حَبَحُ الكرمة بھلاتم لوگ بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر جھوٹ بولنے کا الزام لگا سکتے ہو جو حضرت ابراہیم جنکو تم بھی نبی مانتے ہو اور جن کے متعلق قرآن مجید میں ہے صِدِّيقًا نَّبِيًّا ( سورۃ مریم: ۴۲) کہ وہ سچ بولنے والے نبی تھے۔مگر تم اُن کے متعلق بھی یہ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے تین جھوٹ بولے۔بخاری میں ہے: - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِي اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ لَمْ يَكْذِبْ إِبْرَاهِيْمُ إِلَّا ثَلَاثًا۔۔۔ايضًا عن ابي هريرة۔۔۔۔۔لَمْ يَكْذِب إِبْرَاهِيمُ عليه السلام إِلَّا ثَلاثَ كَذِبَاتٍ۔“ حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ آنحضرت نے فرمایا کہ حضرت ابراہیم نے کبھی جھوٹ نہ بولا مگر تین جھوٹ : (۱) مشکوۃ مطبع نظامی صفحہ ۴۲۱ و ذکر الانبیاءعلیہم السلام پہلی فصل۔(۲) نیز مسلم جلد ۲ صفحه ۲۲۵ کتاب الفضائل باب فضل ابراہیم خلیل اللہ مطبوعہ مطبعة العامرة۔(۳) بخاری کتاب بدء الخلق باب قول الله تعالى و اتخذو الله ابراهيم خليلاً جلد ۲ صفحه ۱۴۹ مطبوعه مطبع الهيه۔(۴) ترمذی کتاب التفسیر سورۃ الانبیاء جلد ۲ صفحہ ۴۶ امجتبائی وصفحه ۶۳ مطبع احمدی۔(۵) بخاری کتاب التفسير سورة بنى اسرائيل باب زربة من حملنا 34