صدق المسیح

by Other Authors

Page 3 of 64

صدق المسیح — Page 3

ہیں یہ میرا بتایا ہوا راستہ نہیں ہے اور آخری زمانہ کے لوگوں نے جس مذہب کا طوق اپنے گلے میں ڈال رکھا ہے وہ میرامذہب نہیں ہوسکتا۔ديوان الشبيبي صفحه: ۱۰۷) حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دور کے مسلمانوں کے متعلق حدیث شریف میں فرمایا کہ:- لَتَتَّبِعُنَّ سُنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ شِبْرًا بِشِبْرٍ وَذِرَاعًا بِزِرْعٍ حَتَّى لَوْ دَخَلُوْا جُحْرَ ضَبٌ تَبِعْتُمُوْ هُمْ قُلْنَا يَا رَسُوْلَ اللهِ الْيَهُود وَالنَّصَارِي قَالَ فَمَنْ؟“ (مسلم جلد نمبر ۲ کتاب العلم ومشكوة كتاب الفتن واشراط الساعه ) یعنی اے مسلمانو! تم لوگ پہلی قوموں کے نقش قدم پر چلو گے جس طرح ایک بالشت دوسری بالشت کے مشابہ ہوتی ہے اور ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ کے مشابہ ہوتا ہے اسی طرح تم ان کے نقشِ قدم پر چلو گے یہاں تک کہ اگر وہ لوگ گوہ کے بل میں داخل ہوئے ہوں گے تو تم بھی ایسا ہی کرو گے (یعنی بُرے کاموں میں غیر شعوری طور سے ان کی پیروی کرو گے ) صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ پہلی قوموں کے طریقوں سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں فرمایا اور کون؟ مسلمانوں کی اصلاح کے لئے آنیوالے مصلح کی پیشگوئی مسیح موعود کے نام سے کرنے میں یہی بھید ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے یہود اور نصاریٰ کے مانند ہو جانے پر ان کی اصلاح کے لئے جس مصلح کی آمد کی پیشگوئی فرمائی اس آنیوالے کو مسیح موعود کے نام سے موسوم فرمایا۔یعنی جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم یہود میں ان کے بگڑنے کے تیرہ سو سال بعد اللہ تعالیٰ نے یہود کی اصلاح کے لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مبعوث فرمایا اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے تیرہ سو سال 3