صدق المسیح

by Other Authors

Page 2 of 64

صدق المسیح — Page 2

ترجمہ: لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آنیوالا ہے کہ جب اسلام کا صرف نام باقی رہ جائیگا اور قرآن کریم کی صرف عبارت باقی رہ جائیگی مسجد میں ان کی بڑی عالیشان اور آباد ہوں گی لیکن ہدایت سے خالی ہوں گی ان کے علماء آسمان کے نیچے بدترین مخلوق ہوں گے انہی میں سے فتنے نکلیں گے اور انہی میں واپس لوٹیں گے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد مبارک کی روشنی میں امت کے معصومین کو فساد کے لئے اکسانا اور اس گالی گلوچ کا انجام کیا ہو گا اس کا فیصلہ قارئین از خود کریں اسلام کے مشاہیر نے علماء سوء کی اس خستہ حالی کو دیکھ کر اپنے دکھی جذبات کا اظہار اپنی تحریرات میں کیا ہے۔چنانچہ ۱۸۷۹ء میں مولانا الطاف حسین حالی اپنے منظوم کلام میں یوں اس حالت زار کا ذکر کرتے ہیں :- رہا دین باقی نہ اسلام باقی * اک اسلام کا رہ گیا نام باقی ایک عالم دین عرب شاعر محمد رضا حبیبی اپنی نہایت فکر انگیز نظم ”روح پیغمبر کے زیر عنوان لکھتے ہیں۔اردو ترجمہ پیش ہے:۔اگر احمد مجتبی کی روح مبارک عالم بالا سے ہمارے پاس تشریف لے آئے یا ہمیں جھانک کر دیکھ لے تو معلوم نہیں کہ ہمارے متعلق کیا رائے قائم کرے۔میرا غالب گمان ہے کہ اگر محمد آج ہمارے پاس تشریف لے آئیں تو آپ کو آج ہماری قوم کے ہاتھوں اسی طرح کے مصائب اور اعراض اور انکار حق کا سامنا کرنا پڑیگا جس طرح آپکو اہل مکہ کا سامنا کرنا پڑا۔کیونکہ جس نور حق کو لیکر آپ مبعوث ہوئے تھے اُس سے اسی طرح ہم رُوگردانی اختیار کر چکے ہیں جس طرح قریش نے اُس سے منہ پھیرا تھا۔اور گمراہی کے گڑھے میں جا گرے تھے اور پھر آپ یقینا یہ فیصلہ کریں گے کہ لوگ جس ڈگر پر چل رہے 2