صدق المسیح — Page 45
اوّل ظاہراً پچاس ہزار سال اگر یہ معنی لئے جائیں تو اسمیں بھی کوئی شک نہیں کہ دنیا میں پچاس ہزار سال بعد موسمی تبدیلی واقع ہوتی ہے کہ ساری زمین برفانی تو دوں سے ڈھک جاتی ہے اور پھر از سرنو تخلیق کا آغاز ہوتا ہے۔دوسرے یہ قابل توجہ بات ہے کہ یہاں مِمَّا تَعُدُون نہیں فرمایا قرآن کریم کی ایک دوسری آیت جس میں ایک ہزار سال کا ذکر ہے وہ اسکے ساتھ ملا کر پڑھی جائے تو مطلب یہ بنے گا کہ جو تم لوگوں کی گنتی ہے اسکے اگر ایک ہزار سال شمار کئے جائیں تو اللہ تعالیٰ کا ہر دن اس ایک ہزار سال کے برابر ہوگا اور اگر ہر دن کو سال کے دنوں سے ضرب دی جائے تو پھر اس کو پچاس ہزار کے دنوں سے ضرب دی جائے تو جو اعداد بنتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے دنوں کی مدت کی تعیین کرتے ہیں پس اس حساب سے اگر پچاس ہزار سال سے جو اللہ تعالیٰ کے دن ہیں اُسے ضرب دی جائے تو اٹھارہ سے بیس پلین سال بن جائیں گے جو سائینسدانوں کے نزدیک کائنات کی عمر ہے۔18,25,00,00,000 = 365 x 50,000 × 1,000 یعنی ہر کائنات اس عمر کو پہنچ کر پھر عدم میں ڈوب جاتی ہے اور اسکے بعد پھر عدم سے وجود میں آتی ہے۔نیز فرمایا: وَيَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ وَلَنْ يُخْلِفَ اللَّهُ وَعْدَهُ وَإِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَالْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ (سورة الحج : ۸-۲۲) یعنی اور وہ تجھ سے جلد تر عذاب مانگتے ہیں جبکہ اللہ ہر گز اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کریگا اور یقیناً تیرے رب کے پاس ایسا بھی دن ہے جو اس شمار کے مطابق جو تم کرتے ہو ایک ہزار برس کا ہے۔اب جہاں تک دنیا کی عمر سات ہزار سال ہے یہ استنباط تورات کی کتاب پیدائش 45