صدق المسیح — Page 18
سکھائی گئی ہے۔اس پر سوال پیدا ہوا کہ موسیٰ علیہ السلام تو نبی تھے اور خدا کا وہ بندہ جس۔وہ علم سیکھنا چاہتے تھے نبی نہ تھا۔وَالنَّبِيُّ لَا يَتَّبِعُ غَيْرَ النَّبِيِّ فِي التَّعْلِيمِ اور نبی جو ہے وہ تعلیم میں غیر نبی کی پیروی نہیں کر سکتا۔پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کیوں ایسی درخواست کی؟ اسکے جواب میں حضرت امام فخر الدین رازی لکھتے ہیں: وَهذَا أَيْضًا ضَعِيفٌ کہ یہ کمزور خیال ہے اسکی وجہ لکھتے ہیں لان النَّبِيُّ لَا يَتَّبِعُ غَيْرَ النَّبِيِّ فِى الْعُلُومِ الَّتِي بِاعْتِبَارِهَا صَارَ نَبِيًّا أَمَّا فِي غَيْرِ تِلْكَ الْعُلُوْم فَلَا۔66 (التفسير الكبير جزء ۵ صفحه (۵۰) کیونکہ نبی ان علوم میں غیر نبی کی پیروی نہیں کرتا جن علوم کے اعتبار سے وہ نبی بنا ہو لیکن ان کے سوا دوسرے علوم میں ایسا نہیں ہوتا۔پھر آگے لکھتے ہیں : يَجُوْزُ أَنْ يَكُوْنَ غَيْرُ النَّبِيِّ فَوْقَ النَّبِيِّ فِي عُلُوْمٍ لَا تَتَوَقَفُ نُبُوَّتُهُ عَلَيْهَا۔66 کہ جائز ہے کہ غیر نبی کسی نبی پر ان علوم میں فوقیت رکھتا ہو جن پر اس نبی کی نبوت موقوف نہ ہو۔پس اگر کوئی نبی کسی غیر نبی سے ایسا علم سیکھتا ہے جس پر نبوت موقوف نہیں ہوتی تو کوئی حرج نہیں ہے۔حضرت ابی بن کعب سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قصہ موسیٰ و خضر کے سلسلے میں فرمایا: قَالَ جِئْتُ لِتُعَلِّمُنِي مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا ( بخاری کتاب الانبیاء حدیث الخضر و موسی جلد ۲ مصری ، صحیح مسلم کتاب الفضائل باب من فضائل خضر جلد ۲ صفحہ ۲۷ مطبع فضل المطابع دہلی ۱۳۱۹ھ ) 18