شہدائے احمدیت — Page 221
خطبات طاہر بابت شہداء 210 خطبہ جمعہ ۱۶ ؍ جولائی ۱۹۹۹ء تشخیص سے معلوم ہوا کہ دراصل سر میں کینسر کی رسولی تھی جو اس عرصہ میں اتنی بڑھ چکی تھی کہ کوئی علاج کارگر نہ رہا۔آخر اسی بیماری سے ۲۱ /اکتوبر ۱۹۹۳ء کو اپنے مولائے حقیقی سے جا میں انالله وانا اليه راجعون۔آپ بہت صابرہ و شاکرہ اور خلافت احمدیہ سے اور خلیفہ وقت سے بے حد محبت رکھتی تھیں۔مرحومہ چونکہ میدان جہاد میں خدا کو پیاری ہوئیں اس لئے ان کے اس نیک انجام کو بلاشبہ شہادت قرار دیا جا سکتا ہے۔آپ کی ایک یادگار بیٹی اور دو بیٹے ہیں۔بڑا بیٹا احمد مہدی ٹورانٹو یونیورسٹی میں ہے۔بیٹی سعد یہ مہدی یارک یو نیورسٹی میں زیر تعلیم ہے۔۳/ جولائی کو ہفتہ کے روز ان کے والد امیر صاحب کینیڈا نے ان کے نکاح کا اعلان کیا ہے۔چھوٹا بیٹا فرید مہدی ساتویں میں زیر تعلیم ہے۔مکرم عبدالرحمان صاحب باجوہ کراچی عبدالرحمان صاحب باجوہ شہید۔کراچی۔تاریخ شہادت ۲۸ را کتوبر ۱۹۹۴ء۔آپ مکرم غلام جیلانی صاحب باجوہ اور امتہ الحفیظ صاحبہ کے صاحبزادے تھے۔آپ کے خاندان کا تعلق چک نمبر L۔R-116 ضلع ساہیوال سے تھا۔۱۹۷۲ء میں والدین کے ہمراہ کراچی منتقل ہو گئے۔جہاں آپ کو ۲۸ اکتو بر ۱۹۹۴ء کو شہید کر دیا گیا۔واقعہ شہادت : ۱۹۹۴ء میں کراچی کے علاوہ منظور کالونی میں جماعتی مخالفت کی ایک شدید لہر اٹھی جس میں فضل عمر ویلفئیر ڈسپنسری اور احمدی احباب کے گھروں پر حملے کرنے اور انہیں آگ لگانے کے پروگرام ترتیب دیئے گئے جو اکثر اللہ تعالیٰ کے فضل سے ناکام ہوئے۔ان دنوں آپ بحیثیت سیکرٹری امور عامہ اپنی ڈیوٹی دینے والے خدام کی رہنمائی کرنے کے ساتھ ساتھ دن رات کی پرواہ کئے بغیر حالات کو کنٹرول کرنے کی بھر پور کوشش کر رہے تھے۔۲۸ اکتوبر ۱۹۹۴ء بروز جمعتہ المبارک آپ اپنی ہمشیرہ کے گھر سے موٹر سائیکل پر آرہے تھے کہ شام پانچ بجے کے قریب دو موٹر سائیکل سواروں نے گلی میں اپنی موٹر سائیکل کھڑی کر کے سامنے سے آپ کا راستہ روک لیا اور آنافانا پستول سے آٹھ فائر کئے جس سے آپ موقع پر ہی شہید ہوگئے۔اناللہ وانا الیه راجعون۔شہید کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ایک لے پالک بیٹی تھی جو آپ کی بیوہ مکرمہ سلمیٰ رحمان صاحبہ کے گھر میں پلی ہے۔