شہدائے احمدیت — Page 210
خطبات طاہر بابت شہداء 199 خطبہ جمعہ 9 جولائی ۱۹۹۹ء کے صدر تھے۔۱۹۸۴ء میں جب حالات خراب ہوئے تو ان کو کئی دفعہ دھمکی آمیز خطوط آئے کہ ہم تمہیں قتل کر دیں گے لیکن آپ کو ان دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہ تھی بلکہ نماز تہجد میں شہادت کی دعامانگا کرتے تھے۔ایک روز ایک شخص اپنے آپ کو مریض ظاہر کر کے دوکان میں آیا اور اس نے آتے ہی کئی فائر کئے اور ڈاکٹر صاحب نے اسی وقت شہادت کا رتبہ پالیا۔آپ آب زم زم سے دھلے ہوئے دو کفن مکہ سے لائے تھے۔آپ کی خواہش تھی کہ انہی میں آپ کو دفنایا جائے۔اصولاً تو شہید کو کفن نہیں دیا جاتا اپنے انہی کپڑوں میں مدفون ہوتا ہے جن میں خون لت پت وہ شہید ہوتا لیکن ان کی خواہش تھی کہ ان کو مکہ والا کفن دیا جائے۔اس کا سبب اللہ نے یہ بنادیا کہ پولیس نے وہ کپڑے اپنے قبضے میں لے لئے جن کپڑوں میں شہید ہوئے تھے اور باوجود اصرار کے ان کو واپس نہ کیا۔نتیجہ ان کو اسی مکہ والے کفن میں جو آب زم زم میں دھلا کر اپنے ساتھ لے کر آئے تھے اسی میں دفن کیا گیا۔شہید مرحوم نے اپنی بیوہ غلام فاطمہ بی بی صاحبہ کے علاوہ چار بیٹے اور ایک بیٹی پسماندگان میں چھوڑے۔محمد عبدالسمیع جدران صاحب شادی شدہ ہیں اور امریکہ میں ملازمت کرتے ہیں۔عبدالحلیم جدران صاحب اسلام آباد (پاکستان) میں اسٹنٹ چیف منسٹری آف فنانس میں کام کرتے ہیں اور شادی شدہ ہیں۔عبدالرفیق جدران صاحب M۔Sc نصرت جہاں سکیم کے تحت تیرہ سال بطور وقف مغربی افریقہ میں کام کرتے رہے، آج کل کینیڈا میں مقیم ہیں۔امتہ اللہ خانم صاحبہ شادی شدہ ہیں اور نوابشاہ میں رہ رہی ہیں۔ڈاکٹر عبدالمومن جدران صاحب شادی شدہ ہیں۔نصرت جہاں سکیم کے تحت ۱۹۹۳ء سے ۱۹۹۶ ء تک وقف کیا اور اب بسلسلہ تعلیم خود تو آئر لینڈ میں ہیں اور ان کی بیگم طاہرہ مومن اور بچے یہاں لندن میں مقیم ہیں۔ضلع نوابشاہ کا وہ با اثر زمیندار جو کہ پیر بیروالے کا مرید تھا اور جس کی ایما پر ہی اس علاقہ کے اکثر احمدی ڈاکٹروں کی شہادتیں ہوئیں، اس کی موت اپنے اندر ایک عبرت کا نشان رکھتی ہے۔اس کے جوان بیٹے نے گھر والوں سے باہمی مشورہ کے بعد اپنے باپ کو رات سوتے میں گولی ماری۔گولی لگنے کے بعد وہ ذرا سا اٹھا تو اس کی بیوی اور بچوں نے سمجھا کہ اس کو گولی نہیں لگی اور اگر یہ بچ گیا تو ہمیں زندہ نہیں چھوڑے گا۔چنانچہ اس کی بیوی، بیٹیوں اور بیٹے نے مل کر اس کا گلا دبانا شروع کیا