شہدائے احمدیت — Page 167
خطبات طاہر بابت شہداء 160 خطبہ جمعہ ۲۵/ جون ۱۹۹۹ء اُسے گولی ماردی اور اُس کی لاش جلوس کی طرف پھینک دی۔اس کے بعد کسی اور کو چھت پر چڑھنے کی جرات نہ ہوئی لیکن اب ہمسایہ کے گھر پر بھی پتھراؤ شروع ہو گیا اور شہید مرحوم اکیلے اپنے گھر کے صحن میں کھڑے رہ گئے۔بیوی بچے ہمسایوں کے ایک غسلخانے میں بند ہو گئے۔کچھ دیر بعد ہمسایہ نے اپنے گھر کی عورتوں اور بچوں کو جیپ میں باہر بھجوادیا اور بعد میں دشمن کو کہہ دیا کہ فخر الدین کے بیوی بچے بھی انہی کے ساتھ نکل گئے ہیں۔مشتعل ہجوم فخر الدین بھٹی صاحب کے گھر پر دوبارہ حملہ آور ہوا تو شہید مرحوم کے پاس گو پستول تو تھا لیکن گولیاں ختم ہوگئی تھیں جب بھرا ہوا ہجوم آپ پر ٹوٹ پڑا۔آپ کے گھر کو آگ لگا دی اور آپ کو آگ میں پھینکا گیا لیکن آپ جلدی سے اٹھ کھڑے ہوئے اور دشمن کا مقابلہ کرتے رہے۔جب بے بس ہو گئے تو ہجوم آپ کو مارتا ہوا میدان میں لے گیا۔آپ کلمہ شہادت پڑھتے تو دشمن کہتا کہ اب تو موت کے ڈر سے مسلمان ہورہا ہے لیکن ہم تجھے نہیں چھوڑیں گے۔آپ جواب دیتے کہ میں موت سے نہیں ڈرتا تم نے جو کرنا ہے کرو، میں خدا کے فضل سے پکا مسلمان ہوں اور کا فرتم ہو۔کچھ لوگوں نے جب آپ کو بچانے کی کوشش کی تو انہیں بھی پتھر مارے گئے۔اس پر آپ نے ہاتھ کے اشارے سے اُن لوگوں کو پیچھے چلے جانے کو کہا۔ظالم پتھروں، چاقوؤں اور ڈنڈوں سے آپ پر وار کرتے رہے اور اسی طرح یہ بے خوف مجاہد کلمہ پڑھتے پڑھتے شہید ہو گیا۔جب آپ پر پتھر برسائے جارہے تھے تو آپ نے ایک دفعہ بھی اپنے چہرے کو بچانے کے لئے ہاتھوں سے چھپانے کی کوشش نہ کی۔دشمن حیران تھا کہ اس شخص نے اتنی چوٹیں کھانے کے باوجود بھی ”اُف تک نہ کی۔بعد میں یہی کہتے پھرتے تھے کہ یہ شخص لاکھوں میں ایک تھا، بہت ایماندار مخلص اور خوبیوں والا تھا بس ایک ہی کمی تھی کہ یہ مرزائی تھا۔پھر ظالموں نے پروگرام بنایا کہ آپ کی لاش کو چوک میں لے جا کر پھانسی دیدی جائے۔تب ایک شدید مخالف نے اس وقت عقل سے کام لیا اور آگے بڑھ کر دشمن کو اس حرکت سے منع کیا۔اتنے میں پولیس آپ کی لاش کو ایک چارپائی پر ڈال کر اٹھا لے گئی۔ان کا ایک وفادار کتا ان کی لاش کے گرد گھومتا رہا اور تین دن بھوکا رہنے کے بعد اس نے بھی صدمے سے جان دیدی۔شہید کو راولپنڈی لے جا کر سپردخاک کر دیا گیا۔جو کتے کی موت ہے یہ بھی اپنے مالک