شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 147 of 297

شہدائے احمدیت — Page 147

خطبات طاہر بابت شہداء 139 خطبہ جمعہ ۱۸؍ جون ۱۹۹۹ء اسٹیٹس میں کام کی نگرانی پر مقرر کیا گیا۔۱۹۴۲ء میں آپ کر ونڈی منتقل ہو گئے اور زمینوں کے ٹھیکے وغیرہ لینے شروع کئے۔آپ بہترین داعی الی اللہ تھے۔آپ کی تبلیغ سے آپ کے رشتہ داروں میں سے پچاس کے قریب احمدی ہوئے۔کرونڈی جماعت کی داغ بیل آپ نے ہی ڈالی۔شہادت کے وقت تک کرونڈی جماعت کے صدر رہے۔واقعہ شہادت : دسمبر ۱۹۶۶ء کی بات ہے کہ بعض متعصب اور شر پسند عناصر نے آپ کے خلاف سیکیم تیار کی اور آپ کے قتل کا منصوبہ بنایا چنانچہ انہوں نے کرائے کے دو قاتل اس غرض کے لئے بھیجے۔جو آپ کے پاس اس انداز سے آئے گویا وہ بیعت کرنا چاہتے تھے۔آپ حسب معمول ان کو تبلیغ کرتے ہوئے شام کے وقت اپنے گھر لے آئے۔انکی خاطر مدارت کی نمازیں باجماعت ادا کیں پھر فجر کی نماز پر آپ نے خود پانی گرم کر کے ان کو وضو کر وایا اور انہیں نماز پڑھائی اور نماز کے بعد انہیں باہر اپنے باغ میں لے آئے۔وہاں کچھ دیر چار پائیوں پر بیٹھے رہے اور ان کو تبلیغ کی۔پھر ان کولے کر باغ کی سیر کروانے چلے گئے۔آپ کے پوتے مقصود احمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ میرے چا یعقوب صاحب نے ان سے کہا کہ پتہ تو کرو، کافی دیر ہوگئی ہے ، آئے نہیں۔وہ کہتے ہیں میں جب باغ میں گیا تو میں نے دیکھا ہمارا وہ مہمان جو مولوی عبدالحق صاحب کے ساتھ باغ میں گیا تھا بھاگ رہا۔مجھے شک پڑا تو میں نے اپنے چا کو بھی آواز دی کہ ادھر آئیں۔پھر ہم باغ میں ادھر اُدھر دیکھنے لگے۔دادا جان کو دیکھا تو وہ شہید کر دیئے گئے تھے۔اناللہ وانا الیه راجعون۔شہید مرحوم موصی تھے۔ایک سال تک کر ونڈی میں امانتاً دفن رہے پھر ربوہ میں بہشتی مقبرہ میں تدفین عمل میں آئی۔مکرم بشیر احمد طاہر بٹ صاحب کنڈیارو بشیر احمد طاہر بٹ کنڈیار وضلع نواب شاہ۔تاریخ شہادت ۲۹ رمئی ۱۹۷۴ء۔بشیر احمد بٹ صاحب ابن محمد دین بٹ صاحب کنڈیارو کے رہنے والے تھے۔آپ کا اصل آبائی گاؤں سیالکوٹ تحصیل شکر گڑھ تھا۔تلاش معاش کے سلسلہ میں مختلف جگہوں پر پھرتے رہے اور آخر کار کنڈیار وضلع نواب شاہ میں سکونت اختیار کی۔بہت مہمان نواز اور ملنسار تھے۔بہترین داعی الی اللہ تھے۔عبادت گزار ، سلسلہ کے فدائی، مرکز کی ہر تحریک پر لبیک کہنے والے اور ہر قسم کی قربانی دینے والے مخلص خادم