شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 262 of 297

شہدائے احمدیت — Page 262

ضمیمہ 246 شہداء بعد از خطبات شہداء سے دھمکی آمیز فون آتے رہے۔گمان ہے کہ مخالفین نے اس دشمنی میں ہر دو کوشہید کیا ہے۔مکرم پا پو حسن صاحب آف انڈونیشیا ( تاریخ شہادت ۲۲ جون ۲۰۰۱ء) مورخه ۲۲ / جون ۲۰۰۱ء کو مخالفین احمدیت کا ایک مشتعل ہجوم مغربی لامبوک (Lombok) کے شہر سمبی الین (Sambi Elen) میں واقع جماعت احمد یہ انڈونیشیا کی دو مساجد پر حملہ آور ہوا۔حملہ آور چھروں اور کلہاڑیوں سے مسلح تھے۔انہوں نے مساجد کو آگ لگا کر خاکستر کر دیا اور احمدیوں کے 9 گھر بھی مسمار کر دیئے۔مساجد کی حفاظت کیلئے ایک احمدی بزرگ مکرم پا پوحسن صاحب نے ہنگامہ کرنے والوں کی مزاحمت کی۔ہجوم نے کلہاڑیوں اور چھروں سے ان پر حملہ کر دیا جس سے آپ لہولہان ہو گئے۔آپ کو ہسپتال لے جایا گیا لیکن زخموں کی تاب نہ لا کر آپ بعمر ۶۵ سال شہید ہو گئے۔آپ کی اہلیہ محترمہ رقیہ صاحبہ اس حملہ میں شدید زخمی ہوئیں۔بروقت طبی امداد ملنے سے آپ کی جان بچ گئی۔مکرم پاپوحسن صاحب جماعت سمبی امین کے سیکرٹری دعوت الی اللہ تھے۔آپ کو دعوت الی اللہ کا جنون کی حد تک شوق تھا۔جب آپ تبلیغ میں مصروف ہوتے تو مخالفین آپ کی داڑھی کو تضحیک کا نشانہ بناتے مگر آپ ان کی پرواہ نہ کرتے اور دعوت الی اللہ میں مصروف رہتے۔اس دردناک حادثہ کے بعد پولیس نے کچھ گرفتاریاں کیں۔بعد میں علم ہوا کہ اس حملہ کا منصوبہ چند مولویوں نے بنایا تھا جس میں بعض پولیس اہلکار بھی شریک تھے۔مکرم شیخ نذیر احمد صاحب آف فیصل آباد تاریخ شہادت ۲۸ / جولائی ۲۰۰۱ء ) فیصل آباد کے ایک مخلص بزرگ محترم شیخ نذیر احمد صاحب عمر ۷۸ سال مورخہ ۲۸ / جولائی ۲۰۰۱ء کو راہ مولیٰ میں قربان ہو گئے۔صبح آٹھ بجے کے قریب آپ کی رہائش گاہ خیابان کالونی نمبر 2 (مدینہ ٹاؤن) فیصل آباد کی گھنٹی بجی۔ملازم نے دروازہ کھولا اس نے کہا کسی بڑے کو بلاؤ۔محترم شیخ