شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 261 of 297

شہدائے احمدیت — Page 261

ضمیمہ 245 شہداء بعد از خطبات شہداء پروگراموں میں بھر پور حصہ لیتے۔یوم شہادت مدثر احمد نے اپنی والدہ کے ساتھ مسجد جا کر نماز مغرب پڑھی پھر خطبہ سنا، نماز عشاء پڑھی اور پھر والدہ کے ساتھ گھر آگئے۔غیر از جماعت کی مسجدوں سے اعلانات سنتے ہی یہ بیت الذکر چلے گئے۔بعض دوستوں نے کہا واپس چلے جاؤ لیکن مدثر نے کہا میں بیت الذکر کی حفاظت کروں گا اور واپس نہیں جاؤں گا اور اللہ کے گھر کی حفاظت میں شہید ہو گئے۔شہید مرحوم نے والدین کے علاوہ تین بھائی اور دو بہنیں سوگوار چھوڑ ہیں۔اللہ تعالیٰ انہیں صبر جمیل عطا فرمائے۔اللہ تعالیٰ ان عاشقان دین پر اپنی بے شمار رحمتیں نازل کرے، انکی اولا داور ا قارب کے زخموں پر اپنی تسکین کا مرہم لگائے اور شہداء کے درجات بلند فرماتا چلا جائے۔آمین۔مکرم چوہدری عبدالرحیم صاحب مجاہد اور انکی اہلیہ مکرمہ شریفہ شوکت صاحبہ آف ساہیوال مکرم چوہدری عبدالرحیم صاحب مجاہد اور انکی اہلیہ مکرمہ شریفہ شوکت صاحبہ کو مورخہ ۸ اور ۹ رمئی ۲۰۰۱ ء کی درمیانی رات ساہیوال انکے گھر میں بڑے ظالمانہ طور پر شہید کر دیا گیا۔دونوں صحن میں سوئے ہوئے تھے انہیں وہاں سے اٹھا کر باتھ روم اور ملحقہ سٹور میں لیجا کر تشدد سے ہلاک کیا گیا۔تشدد سے انکی ہڈیاں ٹوٹ گئیں۔مکرم چوہدری عبدالرحیم صاحب مجاہد ۱۹۹۲ء میں محکمہ صحت سے ریٹائر ہوئے۔بہت نیک اور صابر انسان تھے۔ان کے اکلوتے بیٹے مکرم عبد القدیر صاحب اسیر راہ مولی ساہیوال (جامعہ رشیدیہ ساہیوال کیس ) تقریباً دس سال اللہ کی راہ میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرتے رہے۔اس اذیت ناک عرصہ کو دونوں میاں بیوی نے نہایت صبر اور استقامت سے برداشت کیا۔دونوں میاں بیوی اسیران ساہیوال سے ملاقات اور انکی دیگر ضروریات جیل میں پہنچانے کیلئے ہمیشہ تیار رہتے۔مرحومه شریفه شوکت صاحبہ جماعتی اجلاسات اور جمعہ میں با قاعدہ شامل ہوتیں۔دونوں کی عمرہ ۷ سال کے قریب تھیں۔انکی ایک بیٹی مع بچگان والدین کے ساتھ مقیم تھی۔وقوعہ کے روز انکی بیٹی ساہیوال سے باہر تھی۔شہید کے بیٹے کے ایک ساتھی اسیر مکرم نثار احمد صاحب کے گھر سپاہ صحابہ تنظیم کی طرف