شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 212 of 297

شہدائے احمدیت — Page 212

خطبات طاہر بابت شہداء 201 خطبہ جمعہ ۹ر جولائی ۱۹۹۹ء وفات شدگان کو ڈولے میں ڈال کر لے جایا جاتا ہے۔ہر ملک کے اپنے اپنے رواج ہوتے ہیں وہاں کا رواج یہی ہے جس پر سب احمدی اور غیر احمدی برابر عمل کرتے ہیں۔وہاں کے مقامی رواج کے مطابق جنازہ کو قبرستان تک پہنچانے کے لئے چار پائی کی جگہ ڈولا استعمال کیا جاتا ہے۔اگلے دن ۳۰ /جون کو پولیس انسپکٹر کی موجودگی میں دوبارہ مطالبہ کیا گیا تو نہ صرف یہ کہ انکار کر دیا گیا بلکہ پہلے سے تیار شدہ منصوبہ کے مطابق اُن چنداحمدیوں پر جو ڈولا حاصل کرنے کے لئے گئے تھے، ایک جم غفیر نے لاٹھیوں اور پتھروں سے حملہ کر دیا۔اس حملہ میں چند احمدی شدید زخمی ہو گئے جن میں سے مکرم مبشر احمد صاحب نا گنڈ موقع پر ہی شہید ہوگئے۔انـا لـلـه وانا اليه راجعون۔ان کے پسماندگان وغیرہ کے متعلق کوئی دوسری خبر نہیں ملی۔اب اس خطبہ کو سننے کے بعد شاید اطلاعیں آجائیں مگر ان کا اب دوبارہ کسی خطبہ میں ذکر نہیں ہو سکتا۔یہ ریکارڈ میں چلی جائیں گی۔مکرم نصیر احمد علوی صاحب دوڑ نوابشاہ نصیر احمد علوی صاحب شہید۔دوڑ ضلع نوابشاہ۔تاریخ شہادت ۱۷ نومبر ۱۹۹۰ء۔نصیر علوی شہید کے والد صاحب جو دوڑ ضلع نوابشاہ کے رہنے والے تھے خود احمدی ہوئے تھے، نہایت مخلص اور فدائی تھے۔یہ آپ ہی کی نیک تربیت کا نتیجہ تھا کہ نصیر احمد علوی دوسروں تک احمدیت کا پیغام پہنچانے میں سرگرداں رہتے تھے۔کہا کرتے تھے کہ اگر میں دن میں دو چار آدمیوں کو تبلیغ نہ کرلوں تو میرا کھانا ہضم نہیں ہوتا۔اس وجہ سے دن بدن متعصب لوگ آپ کی مخالفت میں بڑھتے رہے۔ایک دو دفعہ دھمکی بھی ملی کہ اگر تبلیغ سے باز نہ آئے تو آپ کو مار دیا جائے گا لیکن آپ نے اس دھمکی کی کوئی پرواہ نہ کی اور دعوت الی اللہ میں مصروف رہے۔۷ ارنومبر ۱۹۹۰ء کو جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی رات دو بجے تین آدمی آپ کے گھر آئے۔ان میں سے دو تو دیوار پھلانگ کر اندر آگئے اور ایک دیوار پر کھڑا رہا۔گھر کے اندر داخل ہونے والے دو افراد میں سے ایک نے آپ کے منہ پر تکیہ رکھا اور دوسرے نے آپ کے دل کے بالکل قریب فائر کر دیا۔آپ کی اہلیہ فائر کی آواز سن کر جاگ اٹھیں تو کیا دیکھتی ہیں کہ ایک آدمی آپ پر جھکا ہوا ہے۔اہلیہ نے اس کو پیچھے سے پکڑنا چاہا تو اس نے کہنی مار کر انہیں نیچے گرا دیا اور دیوار پھلانگ کر بھاگ گیا۔اہلیہ نے جب آپ کے اوپر سے کپڑا ہٹایا تو زندگی کی رمق ابھی باقی تھی۔فوراً ہسپتال پہنچایا گیا لیکن