شہدائے احمدیت — Page 96
خطبات طاہر بابت شہداء 87 خطبہ جمعہ ۲۸ رمئی ۱۹۹۹ء تھے۔میں نے جب تبلیغ کے لئے اعلان کیا کہ ایسے مجاہدوں کی ضرورت ہے جو تبلیغ دین کے لئے زندگی وقف کریں تو انہوں نے بھی اپنے آپ کو پیش کیا۔اس وقت ان کے پاس کچھ روپیہ تھا انہوں نے اپنا مکان فروخت کیا ، رشتہ داروں اور متعلقین کو حصہ دے کر خودان کے حصہ میں جتنا آیا وہ ان کے پاس رہا اس لئے مجھے لکھا کہ میں اپنے خرچ پر جاؤں گا۔اس وقت میں ان کو بھیج نہ سکا اور جب کچھ عرصہ بعد ان کو بھیجنے کی تجویز ہوئی تو اس وقت وہ روپیہ خرچ کر چکے تھے مگر انہوں نے ذرا نہ جتایا کہ ان کے پاس روپیہ نہیں ہے۔ہندوستان سے باہر کبھی نہ نکلے تھے۔اس ملک ( یعنی ایران ) میں کسی سے واقفیت نہ تھی مگر انہوں نے اخراجات کے نہ ہونے کا قطعاً اظہار نہ کیا اور وہاں ایک عرصہ تک اسی حالت میں رہے۔انہوں نے وہاں سے بھی اپنی حالت نہ بتائی۔نامعلوم کس طرح گزارہ کرتے رہے مگر پھر مجھے اتفاقاً پتہ چلا۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں ایک دفعہ دیر تک ان کا خط نہ آیا اور پھر جب آیا تو لکھا تھا کہ میرے پاس ٹکٹ کے پیسے نہیں تھے اس لئے خط نہیں لکھ سکا۔اس وقت مجھے سخت افسوس ہوا کہ چاہئے تھا جب ان کو بھیجا گیا اس وقت پوچھ لیا جاتا کہ آپ کے پاس خرچ ہے کہ نہیں۔پھر میں نے ایک قلیل رقم ان کے گزارہ کے لئے مقرر کر دی۔وہاں کے لوگوں پر ان کی روحانیت کا جو گہرا اثر تھا اس کا پتہ ان چٹھیوں سے لگتا ہے جو آتی رہی ہیں۔ابھی پرسوں ترسوں اطلاع ملی کہ آپ یکم رمضان المبارک فوت ہو گئے۔دس دن بیمار رہے پہلے ہلکا ہلکا بخار رہا۔آخری دن بہت تیز بخار ہو گیا اور ڈاکٹر کو بلایا تو اس نے کہا ہسپتال لے چلو۔دوسرے دن وہاں لے جانا تھا کہ فوت ہو گئے۔ان کی تیمارداری کرنے والے رات بھر جاگتے رہے تھے۔سحری کے وقت تیمار دار صبح کی نماز کے بعد سو گئے اور بارہ بجے دو پہر کے قریب ان کی آنکھ کھلی تو آپ فوت ہو چکے تھے۔(خطبات محمود جلد صفحه ۲۴۴) حضرت شہزادہ عبدالمجید صاحب تہران کے جنوبی طرف شہر کے سب سے چھوٹے قبرستان میں دفن کئے گئے۔۱۹۵۳ء تک آپ کا مزار مبارک موجود تھا مگر اس کے بعد قبرستان ہموار کر کے اس پر عمارتیں تعمیر کر دی گئیں۔مکرم محمد رفیق صاحب کاشغر دوسرے مبلغ جن کا میں ذکر کرنا چاہتا ہوں وہ محمد رفیق صاحب کاشغر ۱۹۳۹ء مدفن کاشغر۔مکرم مولوی محمد رفیق صاحب موضع چاچڑ ضلع شاہ پور کے رہنے والے تھے۔تحریک جدید کے مطالبہ نمبر