شہدائے احمدیت — Page 84
خطبات طاہر بابت شہداء 79 خطبہ جمعہ ۲۱ رمئی ۱۹۹۹ء مسیح موعود علیہ السلام کی خطبات میں یہی سنت تھی کہ ضرورت پڑنے پر خطبات کو بہت لمبا بھی کر دیا کرتے تھے مگر بالعموم چھوٹا خطبہ دیا کرتے تھے۔تو یہ جو میرا دستور بن گیا تھا کہ ہر خطبہ ضرور ایک گھنٹے کا ہواب میں اس کو چھوڑ رہا ہوں اور مجھے اس سے زیادہ لطف آتا ہے کہ میں اس پرانی سنت کا احیاء کروں جس کا احیاء ہمارے زمانے میں ہمارے وقت کے امام حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی کیا۔مکرم برکت علی خان صاحب اور مکرم اللہ رکھا صاحب ان شہدا میں سے جن کی قسم کا بیان ہوا ہے سب سے پہلے مکرم برکت علی خان صاحب ساکن دانہ زید کا تحصیل پسرور کا ذکر کرتا ہوں اور دوسرے نمبر پر ضلع گجرات کے مکرم اللہ رکھا صاحب ساکن جسو کے۔دونوں نے بڑی بہادری کے ساتھ جام شہادت نوش کیا۔اللہ رکھا صاحب شہید کے وصال کے بعد ان کے کپڑوں میں سے ان کی والدہ کا خط ملا جو ظاہر کر رہا ہے کہ احمدی خواتین میں جذبہ شہادت کس قدر عروج کرتا ہے۔ان کی والدہ کے الفاظ یہ ہیں : ”بیٹا احمدیت کی خاطر تن من دھن کی بازی لگا دینا، ہر مشکل کا مقابلہ کرنا اور پشت نہیں دکھانا بلکہ دلیری کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کرنا “ اللہ تعالیٰ ان کی والدہ کو بھی جزا دے اور اس شہید کو بھی جزا دے کہ اس والدہ کی نصیحت پر لفظ لفظا عمل کیا اور شہادت کی روح کے ساتھ شہید ہوئے۔جو باتیں ہمارے تاریخی مواد میں موجود نہیں ہیں وہ اب ان تذکروں کے ذریعہ سے اکٹھی ہوسکتی ہیں اور ہو بھی رہی ہیں۔جب بھی شہادت کا ذکر کرتا ہوں تو ان کے رشتے دار جو دنیا میں دور دراز پھیلے ہوئے ہیں وہ ان کے متعلق مزید تفصیلات بھی بھجواتے ہیں اور یہ بھی بتاتے ہیں کہ اگر ان کی پیچھے اولاد کوئی ہے، رشتہ دار تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر کیا کیا فضل فرمائے۔پس یہ سارے امور رفتہ رفتہ خطوط کے ذریعہ اکٹھے ہو کر ہماری تاریخ کا ایک نیا باب کھول دیں گے۔چوہدری نصیر احمد صاحب تیسرے شہید جن کو اسی محاذ پر شہادت کی توفیق ملی ہمارے عزیز دوست پروفیسر سلطان اکبر صاحب کے چچازاد بھائی چوہدری نصیر احمد صاحب تھے۔۳ اگست ۱۹۴۸ء کو بوقت شہادت کنوارے تھے اور سیکنڈ ایئر کے طالب علم تھے۔ان کے متعلق بھی یہی بیان کیا جاتا ہے کہ آپ خاص جذبہ