شہدائے احمدیت — Page 74
خطبات طاہر بابت شہداء 69 69 خطبہ جمعہ ۴ ارمئی ۱۹۹۹ء بعض افسران ان کو نکلوانے کے لئے گلی کے سرے پر موجود مکان تھا وہاں پہنچے اور ان کے نکالنے کے لئے دو نو جوانوں کو بھیجا وہاں پھٹے لگا کر ایک عارضی پل بنالیا جایا کرتا تھا تو پھٹوں پر سے یہ گزر کر گئے ہیں ، یہ نوجوان جس وقت گلی پار کرنے لگے تو سامنے کی چھتوں سے پولیس نے ان پر بے تحاشہ گولیاں چلا دیں اور وہ لوگ واپس گھر آنے پر مجبور ہو گئے۔تب لکڑی کے تختے منگوا کر ، یہ غالبا لکڑی کے تختے منگوائے گئے ہیں پہلے نیچے سے جانے کی کوشش کی ہوگی عام گلی میں سے لیکن وہاں وہ عین لوگوں کے نشانے میں تھے اور خطرہ تھا کہ شاید کوئی بھی بچ نہیں سکے گا۔اس لئے اس کے بعد جو ترکیب سوجھی کسی کو کہ لکڑی کے پھٹے لگائے جائیں اور بہت تیزی سے چھلانگ لگا کر ان پھٹوں پر سے گزر جائیں۔دو نو جوان اس کام کے لئے گئے تھے یعنی دو نو جوانوں نے پیش کیا کہ ہمیں بھیجیں پھٹوں کے اوپر سے ہم انشاء اللہ جا کر احمدی خواتین کو نکال لائیں گے۔ان میں ایک غلام محمد صاحب ولد مستری غلام قادر صاحب سیالکوٹی تھے اور دوسرے عبدالحق نام قادیان کے تھے جو احمدیت کی طرف مائل تو تھے اور احمدی مجاہدین کے ساتھ خدمت میں بھی بھر پور حصہ لے رہے تھے مگر ابھی جماعت میں شامل نہیں تھے۔یہ دونوں نوجوان برستی گولیوں میں سے پھٹے پر سے کودتے ہوئے اس مکان میں چلے گئے جہاں چالیس عورتیں موجود تھیں۔انہوں نے ایک ایک عورت کو کندھے پر اٹھا کر تختے پر ڈالنا شروع کیا اور مشرقی مکان والوں نے انہیں کھینچ کر اپنی طرف لانا شروع کیا۔جب وہ اپنے خیال میں سب عورتوں کو نکال چکے اور خود واپس آگئے اور محفوظ تھے تو معلوم ہوا کہ انتالیس عور تیں آئی ہیں اور ایک نہیں آئی حالانکہ یہ یقینی خبرتی کہ چالیس عورتیں ہیں۔ایک بڑھیا عورت جو گولیوں کے ڈر کے مارے ایک کونے میں چھپی ہوئی تھی وہ وہیں رہ گئی۔اب ایسے موقع پر انسان کہہ سکتا ہے کہ انتالیس آ گئی ہیں ٹھیک ہے۔اب اپنے جوانوں کو خطرے میں کیوں ڈالیں بڑھیا عورت ہے ویسے ہی مرنے کے قریب ہے اس کو وہیں چھوڑ دیں۔مگر وہ وقت ایسا تھا جب کہ احمدی مجاہدین ہر قربانی کے لئے تیار تھے۔چنانچہ اس وقت ان دونوں نو جوانوں نے اپنے آپ کو پیش کیا۔غلام محمد صاحب ولد میاں غلام قادر صاحب سیالکوئی اور اسی طرح ان کے علاوہ عبدالحق صاحب، تھے جنہوں نے کہا کہ ہم جاتے ہیں فکر نہ کریں۔