شہدائے احمدیت — Page 73
خطبات طاہر بابت شہداء 68 80 خطبہ جمعہ ۴ ارمئی ۱۹۹۹ء لا ہور سے واپس آرہے تھے قادیان نہیں پہنچ سکے۔یہ لاہور سے اسی غرض سے واپس آرہے تھے کہ حضرت مصلح موعودؓ کا حکم تھا کہ قادیان والے قادیان نہ چھوڑیں۔یہ باوجود اس کے کہ باہر محفوظ جگہ پہنچ چکے تھے پھر بھی قادیان واپسی کا فیصلہ کیا ہوا تھا۔ان کے متعلق یقینی طور پر پتہ نہیں چل سکا کہ کیسے شہید ہوئے مگر جب کچھ عرصہ غائب رہے تو روایت یہ بیان کی جاتی ہے کہ بٹالہ میں ان کو شہید کیا گیا۔ماسٹر عبدالعزیز صاحب کسی وقت مدرسہ احمدیہ میں مدرس بھی رہے ہیں۔مکرم غلام محمد صاحب اور مکرم عبد الحق صاحب اب دو ایسی شہادتیں ہیں جن کا ذکر خصوصی طور پر حضرت مصلح موعودؓ نے اپنے مضمون قادیان کی خونریز جنگ میں کیا ہے۔حضرت مصلح موعودؓ نے ان الفاظ میں یہ ذکر کیا کہ قادیان کے مرکزی حصہ پر جو حملہ ہوا اس میں ایک شاندار واقعہ ہوا۔بہت سے واقعات میں اس واقعہ کو خصوصیت کے ساتھ حضرت مصلح موعودؓ نے ایک شاندار واقعہ بیان کیا ہے۔کیوں؟ اس لئے کہ وہ قرون اولیٰ کی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے۔” جب حملہ کرتے وقت پولیس اور سکھ شہر کے اندر گھس آئے اور شہر کے مغربی حصہ کے لوگوں کو مار پیٹ کر خالی کرانا چاہا اور وہ لوگ مشرقی حصہ میں منتقل ہو گئے تو معلوم ہوا کہ گلی کے پار ایک گھر میں چالیس عور تیں جمع تھیں وہ وہیں رہ گئی ہیں ہمارے مغرب میں ہندوؤں کے محلے تھے اور وہیں احمدی بھی پہلے آباد ہوا کرتے تھے۔تو جب یہ خطرہ ہوا تو احمدیوں کو محفوظ جگہ پہنچانے کا وقت کسی طرح نہ مل سکا اور وہیں بعض گھروں میں وہ اکٹھے ہو گئے اور حسب توفیق والنٹیئر زان کو لے کے آتے رہے۔یہ پس منظر ہے جس میں یہ واقعہ ہوا ہے۔چنانچہ حضرت مصلح موعودؓ لکھتے ہیں شہر کے مغربی حصہ کے لوگوں کو مار پیٹ کر جگہ خالی کروانی شروع کی یعنی پہلے فوجیوں نے اور پولیس نے یہ کام شروع کیا اور وہ لوگ جو مشرقی حصہ میں منتقل ہو گئے تھے یعنی مغربی حصہ سے جو احمد یوں والا حصہ تھا مشرقی اس میں منتقل ہو گئے اس وقت معلوم ہوا کہ گلی کے پارا ایک گھر میں چالیس عورتیں جمع تھیں وہ وہیں رہ گئیں ہیں۔