شہدائے احمدیت — Page 29
خطبات طاہر بابت شہداء 29 29 خطبه جمعه ۳۰ ر ا پریل ۱۹۹۹ء دور خلافت ثانیہ کے شہداء کا تذکرہ ( خطبه جمعه فرموده ۳۰ را پریل ۱۹۹۹ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا: عزیزم غلام قادر کی شہادت کے تعلق میں جو سلسلہ خطبات شروع ہوا ہے ان سب کا عنوان یہی آیت ہے: وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْيَاءِ ولكِن لَّا تَشْعُرُونَ (البقرة: ۱۵۵) کہ خدا کی راہ میں جولوگ مارے جائیں ان کو مردہ نہ کہو بلکہ وہ تو زندہ ہیں لیکن تم لوگوں کو شعور نہیں ہے۔اس تسلسل میں آج کے خطبہ کا آغاز میں پنی عزیز بھائی چھو (نصرت ) کے خط کے تذکرے سے کرتا ہوں۔انہوں نے جو تفصیلی خط لکھا ہے اس میں لکھتی ہیں کہ مجھے اس خیال سے بیحد خوشی ہوتی ہے کہ غلام قادر کی شہادت کی وجہ سے وہ سلسلہ شروع ہو گیا شہادتوں کے تذکرے کا جس میں حضرت سید الشہداء صاحبزادہ عبداللطیف کی شہادت سے شروع ہو کر پھر آخر دوسرے شہداء کا ذکر خیر شروع ہوگیا۔وہ لکھتی ہیں کہ مجھے خوشی اس بات سے ہوتی ہے کہ میرا خاوند آغاز بن گیا ہے اس کا۔اس کی شہادت کے ذکر سے یہ سارے پیارے پیارے ذکر چل پڑے اور بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اس ذکر خیر پر اٹھنے والی دعاؤں میں اس کو بھی شریک رکھے اور غلام قادر کے درجات بھی اس