شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 265 of 297

شہدائے احمدیت — Page 265

ضمیمہ 247 شہداء بعد از خطبات شہداء صاحب دروازہ پر پہنچے تو اس نے فائرنگ کردی۔فوری طور پر ہسپتال لے جایا گیا لیکن آپ اپنے مولی حقیقی کے پاس حاضر ہو گئے۔اگلے روز پہلے بہت الفضل فیصل آباد میں جنازہ ہوا اور پھر ربوہ میں حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب (خلیفہ اسیح الخامس ) ناظر اعلیٰ و امیر مقامی نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور تدفین کے بعد دعا کروائی۔آپ کے نانا اور دادا صحابی تھے۔آپ نے قلعہ کالر والا میں کاروبار کا آغاز کیا اور پھر ۱۹۶۶ء میں فیصل آباد منتقل ہو گئے۔یہاں ہمیں سال سیکرٹری مال رہے۔آپ ہر دلعزیز شخصیت کے مالک اور دعا گو اور ہمدرد بزرگ تھے۔آپ کی اولا د ایک بیٹا شیخ سلیم احمد صاحب اور پانچ بیٹیاں ہیں: مکرمہ بشری رزاق صاحبہ اہلیہ شیخ عبدالرزاق صاحب لاہور، مکرمہ نصرت صادق صاحبہ اہلیہ مکرم شیخ عبد الصادق صاحب فیصل آباد، ہمکر مہ رضیہ احمد صاحبہ اہلیہ مکرم شیخ محمد احمد صاحب کراچی، ہمکر مہ فردوس افضال صاحبہ مرحومہ اہلیہ شیخ محمد افضال صاحب لاہور، مکرمہ بلقیس اعجاز صاحب اہلیہ مکرم اعجاز احمد صاحب شاکر بدوملہی۔محترم شیخ نذیر احمد صاحب کی بیوہ کا نام مکرمہ امتہ الحفیظ صاحبہ ہے۔اللہ تعالیٰ شہید کو اعلیٰ علیین میں جگہ عطا فرمائے۔آمین مکرم چوہدری نوراحمد صاحب اور انکے بیٹے مکرم طاہر احمد صاحب سد و والہ نیواں ضلع نارووال تاریخ شہادت ۱۳-۱۴ ستمبر ۲۰۰۱ء) مکرم چوہدری نور احمد صاحب صدر جماعت احمدیہ سد و والہ نیواں ضلع نارووال عمر ۷۰ سال اور انکے بیٹے مکرم طاہر احمد صاحب عمر ۲۲ سال پر ۱۳ اور ۱۴ ستمبر ۲۰۰۱ء کی درمیانی رات انکے گاؤں میں نامعلوم دہشت گردوں نے فائرنگ کردی جس سے وہ راہ مولیٰ میں قربان ہو گئے۔مورخہ ۱۵ ستمبر ۲۰۰۱ء کو محترم صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب ناظر امور خارجہ کی قیادت میں ایک وفد سد و والہ نیواں پہنچا۔دن ساڑھے گیارہ بجے شہداء کی نمازہ جنازہ ادا کی گئی جس میں قریبی جماعتوں سے آئے احمدی اور ۵۰۰ کے قریب غیر از جماعت شامل تھے۔دو ہزار کے قریب لوگوں نے جنازہ پڑھا اور مقامی قبرستان میں تدفین ہوئی۔غیر از جماعت نے بھی گواہی دی کہ انکی کسی سے دشمنی نہ تھی اور ہر شخص انکی تعریف میں رطب اللسان تھا۔