شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 260 of 297

شہدائے احمدیت — Page 260

ضمیمہ 244 مکرم عارف محمود صاحب شہداء بعد از خطبات شہداء مکرم عارف محمود صاحب ابن مکرم نذیر احمد صاحب رائے پوری شہید عمر ۳۲ سال اور شادی شدہ تھے۔بیت الذکر کی غربی سمت تیل کی ایجنسی کی دکان کرتے تھے۔جماعت سے والہانہ محبت اور خدمت کا جذبہ رکھنے والے نوجوان تھے۔والدہ نے بیت الذکر سے اس کے لگاؤ کی وجہ سے مسیٹر نام رکھا ہوا تھا۔بیت الذکر کی حفاظت کے لئے پیش پیش رہتے تھے۔شہادت کے روز بھی انہوں نے کہا کہ میں سب سے پہلے جان دونگا چنانچہ اپنا وعدہ سچا کر دکھایا۔آپ ہر وقت امیر صاحب کے ساتھ ملکر جماعت کی ترقی کے لئے کوشاں رہتے تھے اور کہتے جب بھی جماعت کو ہماری جانوں اور مالوں کی ضرورت پڑے گی ہم تیار ہونگے اور آگے نکلیں گے۔عارف محمود صاحب کی اہلیہ نے بڑے حوصلہ اور صبر سے صدمہ برداشت کیا اور کہا مجھے فخر ہے کہ میں شہید کی بیوہ ہوں۔شہید مرحوم سابق قائد مجلس تھے اور آجکل معتمد اور اصلاح وارشاد کا عہدہ تھا۔آپ نے دو کمسن بچے یاد گار چھوڑے۔بیٹا مدثر احمد عمر تین سال اور بیٹی طیبہ سر عمر دو ماہ کی تھی۔اللہ تعالیٰ شہید مرحوم کے درجات بلند کرے اور پسماندگان کا حامی و ناصر ہو۔آمین عزیز مبارک احمد صاحب عمر ۱۵ سال دسویں جماعت کے طالب علم اور ۱۵ سال کی عمر تھی والد کا نام جمال الدین صاحب تھا شعبہ اطفال انکے پاس تھا۔جماعتی اور بیت الذکر کے کاموں میں مصروف رہنے والے نوجوان تھے۔امیر صاحب کے معاون و مددگار اور مربیان سے بے حد محبت کرنے والے تھے۔ہمہ وقت جماعتی کاموں کے لئے تیار رہتے۔پانچ وقت کے نمازی اور مسجد کی ڈیوٹی کے لئے خود اپنے آپ کو پیش کرتے۔شہادت کے روز بیت الذکر کی حفاظت کے لئے پہرہ پر مامور تھے کہ راہ مولیٰ میں قربان ہونے کی سعادت پائی۔عزیز مدثر احمد صاحب عمر ۱۵ سال عزیز مدثر احمد صاحب ابن مکرم منظور احمد صاحب نویں جماعت کے طالب علم تھے اور اطفال الاحمدیہ میں شامل پر جوش خادم دین تھے۔میٹرک کے بعد جامعہ احمدیہ میں داخلہ کا ارادہ تھا۔تعلیم میں نمایاں نتائج حاصل کرتے آٹھویں جماعت میں پہلی پوزیشن حاصل کی تھی۔اطفال کے