شہدائے احمدیت — Page 211
خطبات طاہر بابت شہداء 200 خطبہ جمعہ 9 جولائی ۱۹۹۹ء اور اس وقت تک نہیں چھوڑا جب تک اس کی موت کا یقین نہیں ہو گیا۔ڈاکٹر عبدالقدوس صاحب جدران قاضی احمد نوابشاہ ڈاکٹر عبدالقدوس صاحب شہید ، قاضی احمد ( ضلع نوابشاہ )۔یوم شہادت ۲۸ ستمبر ۱۹۸۹ء۔آپ ڈاکٹر عبدالقدیر جدران کے بڑے بھائی تھے۔تقسیم ملک کے بعد سندھ میں آکر آباد ہوئے اور شہادت کے وقت قاضی احمد ضلع نوابشاہ میں رہائش پذیر تھے۔واقعہ شہادت: ۱۲۸ ستمبر ۱۹۸۹ء کو آپ حسب معمول اپنے کلینک میں کام کر رہے تھے کہ ایک مریض کو دیکھنے کے لئے جانا پڑا مریض دیکھ کر واپس آرہے تھے کہ راستہ میں تین افراد میں سے ایک نے آپ کی کمر کے ساتھ پستول رکھ کر فائر کر دیا۔آپ گر گئے۔لوگوں نے آپ کو اٹھایا اور ایدھی ٹرسٹ کی ایمبولینس میں ڈال کر ہسپتال لے گئے لیکن آپ راستہ ہی میں دم توڑ گئے۔کسی دوست نے جو آپ کو پہچانتا تھا آپ کے گھر ٹیلیفون کے ذریعہ اس واقعہ کی اطلاع دی۔انا لله وانا اليه راجعون۔شہید مرحوم نے اپنے پیچھے دو بیٹیاں اور چار بیٹے چھوڑے ہیں جن کی تفصیل یہ ہے: امتہ القدوس صاحبہ شادی شدہ ہیں اور لاہور میں رہتی ہیں۔عبدالقیوم صاحب ایم۔ایس۔سی شادی شدہ ہیں ، نوابشاہ میں مقیم ہیں اور ملازمت کرتے ہیں۔عبدالشکور صاحب بی۔ایس۔سی شادی شدہ ہیں ، نوابشاہ میں مقیم ہیں اور ملازمت کرتے ہیں۔عبد الماجد صاحب شادی شدہ ہیں اور کراچی میں ملازمت کرتے ہیں۔امتہ الصبور صاحبہ ایم۔اے اہلیہ مرزا حفیظ احمد صاحب کارکن تحریک جدیدر بوه میں رہتی ہیں۔(عبدالبصیر صاحب ربوہ میں قیام پذیر ہیں ) سب بچے اللہ کے فضل سے دینی و دنیوی نعمتوں سے مالا مال ہیں۔مکرم مبشر احمد صاحب تیما پور، کرناٹک شہادت مبشر احمد صاحب شہید۔تیما پور، کرناٹک (بھارت )۔یوم شہادت ۳۰ / جون ۱۹۹۰ء جماعت احمدیہ عالمگیر نے جب صد سالہ جشن کی تقریبات منائیں تو یتیما پور کی جماعت نے بھی شایانِ شان پروگرام بنایا۔اس سے وہاں کے شر پسند غیر احمد یوں میں حسد کی آگ بھڑک اٹھی اور شرارتیں کرنے لگے۔۲۹ جون ۱۹۹۰ء کو ایک احمدی خاتون کی وفات پر جنازہ کو اٹھانے کے لئے مقامی مسجد کی انتظامیہ سے ڈولا مانگا گیا تو انہوں نے دینے سے انکار کر دیا۔وہاں رواج یہ ہے کہ