شہدائے احمدیت — Page 200
خطبات طاہر بابت شہداء باعث ثواب ہے۔191 خطبہ جمعہ 9 جولائی ۱۹۹۹ء واقعہ شہادت: ۲۹ / جولائی ۱۹۸۵ ء کی شام کو جب آپ ایک دوست کو ملنے باہر گئے تو آپ کا چودہ سالہ بیٹا بھی ساتھ تھا۔واپسی پر تین آدمیوں نے اچانک ایک گلی سے نکل کر آپ پر حملہ کر دیا اور آپ وہیں شہید ہو گئے۔انا للہ وانا اليه راجعون۔شہادت کے وقت اپنے بیٹے سے کہا کہ بیٹے احمدیت نہ چھوڑ نا خواہ تمہیں بھی جان دینی پڑے۔پسماندگان میں بیوہ مکرمہ رشیدہ بیگم صاحبہ کے علاوہ چھ بیٹیاں اور چار بیٹے چھوڑے جن میں سے پانچ بیٹیوں کی بفضل خدا کامیاب شادی ہو چکی ہے۔باقی بچے غیر شادی شدہ ہیں۔بچوں کے اسماء یہ ہیں: بیٹی عذرا پروین فاروق آباد ضلع شیخو پورہ میں بیاہی ہوئی ہیں۔خالدہ پروین احمد آباد سانگرہ نز در بوہ میں بیاہی ہوئی ہیں۔فاروق احمد امریکہ میں ہیں اور غیر شادی شدہ ہیں۔ساجدہ پروین جرمنی میں ہیں اور شادی شدہ ہیں۔راشدہ پروین احمد آبادسانگرہ نز در بوہ میں بیاہی ہوئی ہیں۔روبینہ پروین صاحبہ آسٹریلیا میں ہیں اور شادی شدہ ہیں۔طاہرہ پروین والدہ کے ساتھ رحمان کالونی ربوہ میں رہ رہی ہیں اور غیر شادی شدہ ہیں۔دو بیٹوں طاہر احمد اور عثمان احمد نے میٹرک کا امتحان دیا ہے اور ایک بیٹے لقمان احمد ساتویں جماعت میں پڑھتے ہیں اور یہ سب والدہ کے ساتھ رہ رہے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ کی ساری اولا د دین و دنیا میں ترقی پذیر ہے۔اللہ تعالیٰ ان کی ہمیشہ دینی اور دنیاوی لحاظ سے حفاظت فرمائے۔مکرم مرز امنور بیگ صاحب لاہور مرزا منور بیگ صاحب شہید، چونگی امرسدھو (لاہور )۔تاریخ شہادت : ۱۸ / اپریل ۱۹۸۶ء مکرم مرزا منور بیگ صاحب شہید سکنہ چونگی امرسدھولا ہور کو ایک معاند احمد بیت عبدالشکور منشاء نے ۷ ار ا پریل ۱۹۸۶ء کو فائر کر کے زخمی کر دیا اور آپ ہسپتال میں اگلے روز ۱۸ را پریل ۱۹۸۶ء کو وفات پاگئے۔انا لله وانا اليه راجعون۔شہید کے بیٹے مرزا اقدس بیگ صاحب لکھتے ہیں کہ میرے والد مرزا منور بیگ صاحب کی کسی سے کوئی ذاتی دشمنی نہ تھی لیکن چونکہ تبلیغ کا شوق تھا اس لئے ایک مولوی امین اور اس کے چیلے اس بات کو پسند نہیں کرتے تھے۔شہادت سے پندرہ روز قبل آپ کا ایک غیر احمدی دوست جو مولوی امین کا