شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 166 of 297

شہدائے احمدیت — Page 166

خطبات طاہر بابت شہداء 159 مرگیا۔( تلخیص از مراسله امتہ الکریم سیما صاحبه بمشره شهید مرحوم) مکرم محمد فخر الدین بھٹی صاحب ایبٹ آباد خطبہ جمعہ ۲۵/ جون ۱۹۹۹ء شہادت مکرم محمد فخر الدین بھٹی صاحب۔تاریخ شہادت : ارجون ۱۹۷۴ء مکرم محمد فخر الدین بھٹی صاحب ۱۹۱۸ء میں گجرات کے ایک قصبہ جلال پور جٹاں میں پیدا ہوئے۔ابھی چار پانچ سال کے تھے کہ والدہ کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔آپ نے میٹرک کا امتحان دیا تو والد بھی فوت ہو گئے۔آپ نے پہلے فوج میں اور پھر پولیس کے محکمہ میں ملازمت کی، بعد میں تجارت بھی کرتے رہے۔آخر ضلع ہزارہ کے ایک قصبہ میں ملازمت شروع کر دی اور باقی زندگی ایبٹ آباد میں ہی گزاری۔جب ۱۹۷۴ء میں احمدیوں کے خلاف ہنگامے شروع ہوئے۔تو آپ نے نہ صرف اپنے گھر والوں کو بلکہ دوسرے احمدیوں کو بھی بہت حوصلہ دیا۔ار جون ۱۹۷۴ء کو حالات بہت خراب تھے۔آپ دفتر گئے تو کچھ دوستوں کے مجبور کرنے پر واپس گھر چلے گئے۔اُس روز شہر میں اشتعال بہت زیادہ پھیل گیا تھا اور جلسے جلوس ہو رہے تھے۔آپ کے ایک بیٹے کے دوست جو فوج میں تھے ، انہوں نے ایک ٹرک بھیجا کہ اپنا قیمتی سامان لے کر ان کے ہاں آجائیں لیکن آپ نے انکار کر دیا۔بیوی نے چلنے پر اصرار کیا تو کہنے لگے کہ اگر تم گھبرا گئی ہو تو بچوں کو لے کر جہاں جانا چاہو چلی جاؤ ، میں تو کہیں نہیں جاؤں گا۔پھر آپ نے حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید کا بل کے واقعات بیان کئے کہ انہوں نے پتھروں کی بارش میں بھی مسکراتے ہوئے جان دیدی اور دشمن کے سامنے سر نہ جھکایا۔آپ کی بیٹی مکرمی روبینہ خلیل صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ شام ساڑھے چار بجے ایک بہت بڑا جلوس گھر پر حملہ آور ہوا اور گیٹ توڑ کر اندر آ گیا پھر اندرونی دروازہ توڑنے کی کوشش شروع کی تو شہید مرحوم اپنے بیوی بچوں کے ساتھ دروازے کو اندر سے سہارا دیئے کھڑے رہے۔جب آدھا دروازہ ٹوٹ گیا تو آپ نے مجبور ہوائی فائرنگ کی جس سے جلوس بھا گا اور باہر نکل کر چاروں طرف سے گھر پر شدید پتھراؤ شروع کر دیا۔جب کھڑکیوں اور روشندانوں کے شیشے ٹوٹ گئے تو اہل خانہ نے صحن کے درخت کے ذریعے ہمسایوں کے گھر میں چھلانگ لگا دی۔اس پر جلوس نے بہت شور مچایا اور ایک لڑ کا حملہ کرنے کے لئے چھت پر چڑھا لیکن اس سے پہلے کہ وہ کچھ کرسکتا ، شہید مرحوم نے