شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 165 of 297

شہدائے احمدیت — Page 165

خطبات طاہر بابت شہداء 158 خطبہ جمعہ ۲۵/ جون ۱۹۹۹ء ނ بھی جاگ اٹھے۔شہید اور اس کے بھائیوں نے سمجھا کہ یہ چور ہیں ، ان کو پکڑنا چاہئے۔لہذا وہ باہر سڑک پر آگئے۔شر پسند جن کی تعداد سات بتائی جاتی ہے وہ ساتھ والی تنگ اور چھوٹی سی گلی۔نکلے۔ایک نے مولود احمد کو بغلوں میں ہاتھ ڈال کر کمر کی طرف سے پکڑ لیا۔اور باقی لوگوں نے خنجروں سے اس پر وار کر کے شدید زخمی کر دیا۔شہید کے بڑے بھائی ڈاکٹر سید مقصود احمد صاحب اور سب سے چھوٹے بھائی سید مظفر احمد صاحب جو اس وقت گیارہ بارہ سال کے تھے ، وہاں پہنچے۔دشمنوں نے اندھیرے میں ڈاکٹر مقصود احمد صاحب اور سید مظفر احمد شاہ پر بھی خنجروں سے وار کئے اور وہ دونوں بھی زخمی ہو گئے۔اتنے میں ان کے والد اور ان کی بہن بھی موقع پر پہنچے۔اس وقت مولود شہید زخموں کی تاب نہ لا کر گر رہا تھا۔ان دونوں نے اسے سنبھال لیا اور تینوں زخمیوں کو اٹھا کر گھر لے گئے۔شہید کو اکیس زخم آئے جو دل اور بغل میں تھے۔گھاؤ بہت گہرے اور دہان زخم کھلے تھے اور نیچے دل نظر آرہا تھا۔باقی دونوں زخمیوں کو ہسپتال لے جایا گیا۔پھر آپریشن ہوا۔ڈاکٹر مقصود کو دو بوتل اور سید مظفر احمد کو چودہ بوتلیں خود دیا گیا۔مولود کی شہادت کے وقت عمر اٹھارہ سال تھی۔مولود شہید کو پولیس کی ہدایت پر مسجد احمدیہ کوئٹہ میں دفن کیا گیا۔سید مولود احمد صاحب غیر شادی شدہ تھے۔آپ کے بڑے بھائی سید مقصود احمد صاحب اس وقت بہت سے اہم جماعتی عہدوں پر فائز ہیں۔چھوٹے بھائی سید مشہود احمد صاحب آج کل جاپان میں ہیں اور مختلف عہدوں پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔سب سے چھوٹے بھائی سید مظفر احمد صاحب بھی مختلف جماعتی خدمات بجالاتے ہیں۔بڑی بہن امتہ الرشید انجم صاحبہ اور چھوٹی بہن مکر مہ امتہ الکریم صاحبہ سمن آبا دلا ہور میں رہتی ہیں۔آپ پر حملہ کرنے والوں کی تعداد سات تھی۔کچھ عرصہ بعد ان حملہ آوروں میں سے دوکا دو پہر کے وقت کسی بات پر ایک ہوٹل میں جھگڑا ہوا۔وہ لڑتے ہوئے باہر سڑک پر نکل آئے اور خنجروں سے ایک دوسرے پر وار کئے اور سڑک پر گر گئے۔پولیس نے آکر جب ان کو اٹھایا تو ایک کی گردن کا کچھ حصہ جسم سے جڑا ہوا تھا اور باقی سرلٹک رہا تھا۔دوسرا ہسپتال لے جاتے ہوئے مر گیا۔سڑک پر موجود لوگ یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے۔ایک شخص مولود شہید پر حملہ کے دوران اندھیرے کے باعث اپنے ساتھیوں ہی کے خنجروں سے زخمی ہوا اسے خفیہ طور پر علاج کے لئے کوئٹہ سے باہر لے جایا گیا لیکن علاج کی مناسب سہولت نہ ہونے کی وجہ سے اس کے زخم خراب ہو گئے۔اور وہ اسی حالت میں