شہدائے احمدیت — Page 164
خطبات طاہر بابت شہداء 157 خطبہ جمعہ ۲۵/ جون ۱۹۹۹ء شہادت آپ کی عمر اکتیس سال تھی۔انا للہ وانا اليه راجعون۔بعد میں پوسٹ مارٹم رپورٹ سے یہ بات سامنے آئی کہ آپ کو دودھ میں اس بظاہر نیک بی بی نے زہر ملا کر دیا تھا۔کیونکہ پوسٹ مارٹم میں وہ زہر نکل آیا۔مکافات عمل: جس عورت نے شہید مرحوم کو زخمی ہونے کی حالت میں دودھ میں زہر ملا کر پلایا تھا بعد میں وہ پاگل ہوئی اور لوگ اس کی نزدیک بھی نہیں آتے تھے۔وہ اسی حالت میں مرگئی اور اس کو بغیر غسل دیئے اسی حالت میں دفن کر دیا گیا۔باقی ظالموں کا حال معلوم نہیں۔پسماندگان میں بیوہ مکرمہ صدیقہ بیگم کے علاوہ تین بیٹیاں اور چار بیٹے چھوڑے۔تینوں بیٹیاں مکرمہ امتہ السلام صاحبہ مکرمہ خالدہ پروین صاحبہ اور مکرمہ آنسہ طلعت صاحبہ شادی شدہ ہیں۔ایک بیٹا مکرم محمد اقبال صاحب لاہور میں الیکٹرونکس کی دوکان کرتے ہیں اور شادی شدہ ہیں۔دوسرے بیٹے مکرم وسیم احمد صاحب ربوہ میں لکڑی کا کام کرتے ہیں اور یہ بھی شادی شدہ ہیں۔تیسرے بیٹے مکرم ناصر احمد مظفر صاحب فضل عمر ہسپتال ربوہ میں کیشیئر ہیں اور غیر شادی شدہ ہیں۔اور چوتھے بیٹے مکرم محمود احمد صاحب گڈز ٹرانسپورٹ کا بزنس کرتے ہیں، ربوہ میں رہتے ہیں اور یہ بھی ابھی تک غیر شادی شدہ ہیں۔شہید مرحوم مکرم ضیاء اللہ مبشر صاحب سابق مبلغ جاپان کے خالو تھے۔مکرم سید مولود احمد صاحب بخاری کوئٹہ مکرم سید مولود احمد بخاری شہید ولد سید محمود احمد صاحب کوئٹہ یوم شہادت : ۹ / جون ۱۹۷۴ء۔سے ہی کوئٹہ میں مولویوں نے مساجد میں جماعت کے خلاف منافرت انگیز اور شر پھیلانے والی تقاریر کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔جب کہ سید مولود احمد شہید اپنے والدین کے ساتھ کوئٹہ کے نواحی گاؤں میں رہائش پذیر تھے۔صبح کے وقت سکول میں ملازمت کرتے اور شام کے وقت پڑھائی کرتے اور بی۔اے کی تیاری کرتے تھے۔۸/ جون کو مفتی محمود نے ان کے گھر کے قریب کی مسجد میں اشتعال انگیز تقریر کی۔چنانچہ ۸/ جون اور ۹ / جون کی درمیانی رات ڈیڑھ بجے چند افراد صحن کی دیوار پھلانگ کر اندر آئے۔اس وقت مولود شہید کی آنکھ کھل گئی۔اس کی چیخ و پکار کی آواز سن کر اس کی بہن سیما بھی جاگ اٹھی۔اس نے چور سمجھا اور شور ڈالا تو صحن میں واقع سٹور میں چھپا ہوا ایک شخص نکلا اور دوسرا لیٹرین سے نکل بھاگا اور تیسرا جو صحن میں تھا باہر کا دروازہ کھول کر بھاگ گیا۔اتنے میں باقی افراد خانہ