شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 163 of 297

شہدائے احمدیت — Page 163

خطبات طاہر بابت شہداء 156 خطبہ جمعہ ۲۵ / جون ۱۹۹۹ء لا جواب کر چکے تھے۔اس نے اس موقع کو غنیمت سمجھا اور آپ کی مخالفت کی آگ خوب بھڑکائی۔چنانچہ وہ آپ کے چچا زاد بھائیوں کے ساتھ مل کر منصوبے بنانے لگا۔آپ نے شریعت کے مطابق اپنے والد صاحب کی زمین کا حصہ اپنی پانچوں بہنوں کو دیا تو بھی آپ کے چچازاد برہم ہوئے اور کہنے لگے تم نے انہیں ہمارے سروں پر بٹھا دیا ہے۔جب آپ نے قرآن وسنت کا حوالہ دیا تو کہنے لگے کہ تم کہاں کی شریعت کی باتیں کرتے ہو تم خود مرزائی ہو۔اپنے گاؤں سے قریبی قصبہ ” قبولہ میں آپ کا بک ڈپو تھا اور آپ قبولہ جماعت کے امام الصلوۃ مقرر تھے۔آپ معمول کی نمازیں اور نماز جمعہ قبولہ میں ہی ادا کرتے تھے۔واقعہ شہادت : ۱۳ / جون ۱۹۶۹ء کو جب آپ قبولہ میں نماز جمعہ ادا کرنے کے بعد واپس گاؤں میں آئے تو ان کی اہلیہ نے کہا آج زمین پر نہ جانا۔میں نے سنا ہے کہ آج مخالفوں نے آپ سے لڑائی کا پروگرام بنایا ہوا ہے۔مگر آپ نے کہا جب میں نہیں لڑوں گا تو وہ خواہ مخواہ کیسے لڑیں گے۔چنانچہ آپ خالی ہاتھ اپنی زمینوں کی طرف چل پڑے۔جمعہ کے روز پانی لگانے کی ان کی باری تھی مگر آپ کے ایک بہنوئی نے ان کا پانی اپنی زمینوں کو لگا لیا۔آپ نے جا کر دیکھا تو اپنے ایک مزارعہ کو جو برہم ہو رہا تھا کہا ”یہ بھی تو اپنے ہی کھیت ہیں، انہیں پانی لگا دو پھر خود وہیں نالے پر وضو کرنے لگ گئے۔نماز عصر کا وقت ہو گیا تھا۔ابھی وضو کر کے واپس کھیتوں میں جارہے تھے کہ ان کی چچاز ادا اور چند دوسرے مخالف للکارتے ہوئے لاٹھیوں سے مسلح ہو کر حملہ آور ہوئے۔آپ چونکہ گنگے کے ماہر تھے اس لئے ان سے ہی ایک لاٹھی چھین کر اپنا دفاع کرنے لگے۔آپ کے ایک بہنوئی نے جب یہ دیکھا تو وہ برچھی سے ان پر حملہ آور ہوا۔برچھی آپ کے پیٹ میں لگی جس سے آپ شدید زخمی ہو گئے۔آپ کے ایک کزن جو آپ کی مدد کو آئے تھے، انہیں بھی برچھی لگی۔اس دوران جب کہ آپ زخمی ہو کر زمین پر گرے پڑے تھے، گاؤں سے آپ کی برادری کی ایک منافق عورت جو گاؤں میں نیک بی بی کے نام سے مشہور تھی ( زہر ملا ) دودھ کا گلاس لائی اور شہید مرحوم کے منہ سے لگا دیا کہ پی لو۔شہید مرحوم نے اس دودھ کے چند گھونٹ پی لئے۔آپ کو ہسپتال پہنچانے کے لئے لوگ اٹھا کر شہر کی طرف لے جارہے تھے کہ آپ رستہ میں ہی شہید ہو گئے۔بوقت