شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 159 of 297

شہدائے احمدیت — Page 159

خطبات طاہر بابت شہداء 151 خطبہ جمعہ ۱۸؍ جون ۱۹۹۹ء آپ کے سگے بھتیجے مکرم اسرار احمد خان صاحب جنہیں آپ کے ساتھ ہی شہید کیا گیا تھا الحاج سلطان سرور خان صاحب آف ٹوپی ضلع مردان کے صاحبزادے تھے۔شہادت سے کچھ عرصہ پہلے یہ اپنے والد محترم کے ہمراہ حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کر چکے تھے۔ان کا میٹرک کا رزلٹ شہادت کے کچھ عرصہ بعد نکلا۔شہادت کے وقت عمر سولہ سترہ سال تھی اور غیر شادی شدہ تھے۔شہادت آپ کی کنپٹی پر پستول کے فائر سے ہوئی۔شہادت کے بعد آپ پر پتھراؤ کیا گیا پنجروں سے وار کئے گئے اور آخر ہجوم نے از منہ گزشتہ کے شہداء کی یاد تازہ کرتے ہوئے ان کی دونوں ٹانگوں کو مخالف سمتوں میں کھینچتے ہوئے ان کی لاش کو دو نیم کر دیا۔ایک عورت یہ لرزہ بر اندام کرنے والا خونی کھیل نہ دیکھ سکی اور زور زور سے چیخنے لگی اور بلند آواز سے بددعا ئیں دینے لگی۔اس پر قاتلوں کی رائیفلوں کا رخ اس کی طرف پھر گیا مگر کچھ لوگ آڑے آگئے کہ یہ قادیانی نہیں ہے۔اسرار احمد کو ان کے چچا صو بیدار غلام سرور شہید کے ساتھ ٹوپی میں ہی دفن کیا گیا۔ان کے پسماندگان میں والد مکرم الحاج سلطان سرور خان صاحب ( جو کہ اب وفات پاچکے ہیں ) اور والدہ مکرمہ امتہ الود و دصاحبہ کے علاوہ تین بھائی اور پانچ بہنیں ہیں۔والدہ ربوہ میں مقیم ہیں۔جبکہ بڑے بھائی مکرم ابرار احمد خان صاحب مع اہل و عیال متحدہ عرب امارات میں مقیم ہیں۔دوسرے بھائی مکرم زبیراحمد خان صاحب بھی شادی شدہ ہیں اور مع فیملی جرمنی میں مقیم ہیں۔تیسرے بھائی اسرار احمد وقار خان صاحب غیر شادی شدہ ہیں اور ایف۔اے۔کے طالبعلم ہیں۔یہ بھائی کی شہادت کے بعد پیدا ہوئے۔والدین نے ان کا نام شہید بیٹے کے نام پر اسرار احمد خان وقار رکھا ہے۔پانچوں بہنیں ربوہ میں مقیم ہیں۔ان کے اسماء یہ ہیں:۔مکرمہ امتہ العزیز صاحبہ اہلیہ مکرم ریاض احمد خان صاحب - مکرمہ یاسمین کوثر صاحبہ اہلیہ مکرم طاہر احمد خان صاحب مکرمہ آسیہ سلطانہ صاحبہ اہلیہ مکرم انوار احمد خان صاحب۔مکرمه فرخنده ناز صاحبہ اہلیہ مکرم عارف احمد خانصاحب۔اور مکر مہ فہمیدہ ناز صاحبہ۔یہ آخری ابھی غیر شادی شدہ ہیں اور بی۔اے کی طالبہ ہیں۔مکافات عمل: غیر احمدی عینی شواہد کے مطابق جس شخص نے اسرار احمد خان سے بربریت کا یہ سلوک کیا وہ اسی رات پاگل ہو گیا اور پاگل خانہ میں بند کر دیا گیا۔اس کی بیوی بھی ذہنی توازن کھو بیٹھی اور گھر میں ہر وقت رسیوں سے بندھی رہتی۔