شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 151 of 297

شہدائے احمدیت — Page 151

خطبات طاہر بابت شہداء 143 خطبہ جمعہ ۱۸؍ جون ۱۹۹۹ء کئے جاتے ہیں۔جن کے حالات بھی معلوم ہو سکے ہیں ان سے یہی ثابت ہوتا ہے۔مکرم چودھری شوکت حیات صاحب حافظ آباد شہادت مکرم چودھری شوکت حیات صاحب۔تاریخ شہادت یکم جون ۱۹۷۴ء مکرم چودھری شوکت حیات صاحب تھہیم ۱۹۲۰ء میں مکرم چودھری محمد حیات خان صاحب ریٹائرڈ انسپکٹر پولیس ، صحابی حضرت مسیح موعود کے ہاں حافظ آباد میں پیدا ہوئے۔تعلیم حافظ آباد اور قادیان میں حاصل کی۔پھر پولیس میں ملازمت اختیار کی ۳۱ رمئی بروز جمعتہ المبارک ۱۹۷۴ء کو حافظ آباد شہر میں ہنگامہ ہوا اور یہ ہنگامہ یکم جون کو زور پکڑ گیا۔شور شرابہ کرنے والوں کی ٹولیاں شہر میں نعرہ بازی کر رہی تھیں۔شہید مرحوم کے بچوں کی سٹیشنری کی ایک دکان تھی جس کے متعلق خبر ملی کہ لوٹ لی گئی ہے اور بقیہ سامان کو آگ لگا دی گئی ہے۔آپ بچوں سمیت جائے وقوعہ پر پہنچے تو پتہ چلا کہ شر پسند لوٹ ماکر کے جاچکے ہیں اور آگ پر پولیس نے قابو پالیا ہے۔آپ اپنی دوکان کے سامنے چوبارہ پر بیٹھ گئے۔آپ کا ایک بیٹا شفقت حیات بھی آپ کے ساتھ تھا۔اتنے میں ایک ہجوم گزرا جو حضرت مسیح موعود کی شان میں گستاخی کر رہا تھا۔آپ نے جلوس کی قیادت کرنے والوں سے کہا کہ کچھ حیا کرو۔جن کی تم توہین کر رہے ہو انہوں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے۔آپ اس وقت اندازہ نہ لگا سکے کہ اس وقت اصولوں پر شر پسندی غالب ہے۔چنانچہ بجائے سرد پڑنے کے ان کی آتش غضب اور بھی شعلہ زن ہوئی اور آپ کے ان الفاظ نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔شریروں نے کہا کہ ان کو پکڑ لو۔قریب ہی ریلوے لائن تھی چنانچہ وہ وہاں سے پتھر اٹھا اٹھا کر آپ کو مارنے لگے۔آپ کا بیٹا شفقت حیات جو وہاں موجود تھا ان کے ہی پھینکے ہوئے جواباً انہیں مارنے لگا اور کچھ دیر ان کو مزید پیش قدمی نہ کرنے دی۔اسی اثنا میں انہیں کسی نے بتایا کہ سامنے سے تم کامیاب نہیں ہوسکو گے، مکان کے پچھواڑے سے حملہ کرو۔چنانچہ وہ پیچھے سے حملہ آور ہوئے۔چنانچہ وہ پیچھے سے حملہ آور ہوئے۔پہلے آپ کے بیٹے کو پتھروں سے شدید زخمی کیا۔ان کے جسم پر چالیس کے قریب زخم آئے لیکن وہ تقریباً ایک مہینہ مسلسل علاج کے بعد صحت یاب ہو گئے۔ان کے والد شوکت حیات کو وہ ظالم گھسیٹ کر نیچے لے گئے اور پتھر مار مار کر لہولہان کر دیا۔اتنے میں پولیس بھی آگئی اور شر پسند موقع سے بھاگ گئے۔ابھی آپ میں زندگی کی رمق باقی تھی۔چناچہ فوراً آپکو