شہدائے احمدیت — Page 146
خطبات طاہر بابت شہداء 138 خطبہ جمعہ ۱۸؍ جون ۱۹۹۹ء مارنے کی کوشش کی تھی۔اس کا جواں سال اکلوتا بیٹا کنوئیں میں ڈوب کر مر گیا۔دوسرے چچا کے بیٹے کا ایکسیڈنٹ ہو گیا۔تیسرے چا کو نا گہانی موت آ گئی۔کچھ پتا نہیں چلا کہ کیوں مرا اور ایک چچا کا سارا گھر اچانک بارشوں سے گر گیا اور اس کے دو بچے موقع پر ہی مر گئے۔رستم خان شہید کے پسماندگان: بیوہ کے علاوہ ایک بیٹا اور پانچ بیٹیاں چھوڑ ہیں۔بیٹا کرنل عبدالحمید خٹک راولپنڈی میں رہتے ہیں۔بڑی بیٹی شمیم اختر صاحبہ کرنل نذیر احمد صاحب کی اہلیہ ہیں اور امریکہ میں قیام پذیر ہیں۔دوسری بیٹی رقیہ بیگم صاحبزادہ جمیل لطیف صاحب کی اہلیہ ہیں۔تیسری بیٹی یاسمین ڈاکٹر قاضی مسعود احمد صاحب امریکہ کی اہلیہ ہیں۔چوتھی بیٹی نگہت ریحانہ بھی امریکہ میں ہیں اور ناصراحمد کی اہلیہ ہیں۔پانچویں بیٹی ناہید سلطانہ صاحبہ کرنل اولیس طارق صاحب کی اہلیہ ہیں اور کینیڈا میں مقیم ہیں۔مولوی عبدالحق نور صاحب کرونڈی مولوی عبدالحق نور صاحب - تاریخ شہادت ۲۱ / دسمبر ۱۹۶۶ء۔آپ قادیان کے قریب ایک گاؤں ”بھٹیاں گوت“ کے رہنے والے تھے۔آپ کے والد مکرم الہی بخش صاحب ایک معروف زمیندار تھے اور ہندو، سکھ اور مسلمان سب آپ سے اپنے معاملات کے فیصلے کرواتے تھے۔آپ نے چارسال تک بطور ہیڈ ماسٹر ملازمت کر کے ملازمت کو خیر باد کہ دیا۔لمبی سوچ بچار اور دعاؤں کے بعد ۱۹۳۴ء کے جلسہ سالانہ پر بیعت کی۔بیعت کرنے کے فوراً بعد ہی آپ کی مخالفت شروع ہو گئی۔آپ نے مخالف مولوی کو دعوت مباہلہ دی جس کی تحریرلکھی گئی جس میں آپ نے تحریر کیا: اگر حضرت مسیح موعود بچے ہیں تو سب سے پہلے مخالف مولوی کا بیٹا مرے گا اور اس کے بعد وہ خود بھی مرجائے گا۔“ چنانچہ مولوی محمد اسماعیل جس کے ساتھ آپ نے مباہلہ کیا تھا مر گیا۔یہ اطلاع آپ کے بھائی نے دی۔آپ نے جوش میں آکر کہا تحریر مباہلہ میں تو تھا کہ اس کا بیٹا پہلے فوت ہوگا۔جا کر پتہ کرو کہ اس کا بیٹا فوت ہوا کہ نہیں۔چنانچہ پتہ کرنے سے معلوم ہوا کہ پہلے مولوی مذکور کا بیٹا فوت ہوا تھا اور پھر وہ مرا۔اس واقعہ کو دیکھ کر آپ کے بھائی نے بھی بیعت کر لی۔زمیندارہ کا وسیع تجربہ ہونے کی وجہ سے آپ کو تقسیم ہند کے بعد محمود آباد، ناصر آباد اور دوسری