شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 135 of 297

شہدائے احمدیت — Page 135

خطبات طاہر بابت شہداء 127 خطبہ جمعہ ا ارجون ۹۹ مکرم حاجی فضل محمد خان صاحب اور آپ کا بیٹا پشاور ١٩٩٩ء مکرم حاجی فضل محمد خان صاحب اور آپ کا بیٹا۔شہادت ۱۹۵۷ء۔حاجی صاحب بہت علم دوست، سادہ مزاج اور متقی انسان تھے۔عرصہ دراز سے احمدی تھے۔آپ جاجی قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے اور پیواڑ کو تل کے قریب ایک گاؤں کے باشندے تھے۔حاجی صاحب پشاور سول کوارٹرز کی مسجد میں نقیب ہوا کرتے تھے۔وہاں مجھے بھی ان سے ملنے کی سعادت نصیب ہوئی۔میں وہاں کسی خدام الاحمدیہ یا وقف جدید کے دورے پر تھا جب میں ان سے ملا اور مجھے یاد ہے وہ لمحہ جب سیٹرھیوں میں بڑے جوش سے وہ مجھے دیکھ کر اتر رہے تھے۔وہیں ایک دن ۱۹۵۷ء میں ان کے رشتہ دار آئے اور قرآن کریم پر حلف اٹھا کر تسلی دی کہ آپ ہمارے ساتھ چلیں ہم ہر طرح آپ کو اچھی حالت میں رکھیں گے مگر ان کے دل میں ان کے قتل کا ارادہ تھا تا کہ ان کی جائیداد پر قبضہ کر لیں۔حاجی صاحب بہت سادہ دلی سے ان کے حلف پر اعتبار کر کے چلے گئے۔وطن پہنچ کر ان کے رشتہ داروں نے ان پر حملہ کر دیا اور ان کو اور ان کے خوردسالہ بچے کو شہید کر دیا اور ان کی بیوی اور لڑکی پر قبضہ کر لیا۔حکومت افغانستان نے ان مظالم کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی۔اب اللہ بہتر جانتا ہے کہ ان کی بیوی اور لڑکی کہاں ہیں اور کس حال میں ہیں۔ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو بھی دوبارہ احمدیت میں کھینچ لائے۔مکرم عثمان غنی صاحب اور مکرم عبدالرحیم صاحب بنگلہ دیش مکرم عثمان غنی صاحب اور مکرم عبدالرحیم صاحب شہدائے بنگلہ دیش۔۳ نومبر ۱۹۶۳ء کو احمدیہ مسلم جماعت برہمن بڑیہ کا سالانہ جلسہ بعد نماز مغرب لوک ناتھ ٹینک کے میدان میں مکرم سید سہیل احمد صاحب سی ایس پی کی زیر صدارت شروع ہوا۔سید سہیل احمد صاحب سی ایس پی آج کل اسلام آباد میں ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ اور ان کا سارا خاندان بہت مخلص ہے۔وہ اس وقت ڈھا کہ میں حکومت کے ڈپٹی سیکرٹری بھی تھے اور خدام الاحمدیہ میں اسٹنٹ ریجنل قائد کے عہدہ پر فائز تھے۔یعنی بڑے عہدوں پر فائز ہونے کے باوجود بھی انہوں نے خدمت دینیہ سے سرمو انحراف نہیں کیا۔بڑی جرات سے عہدے لیا کرتے تھے اور بڑی جرات سے اور عمدگی سے ان کو نبھاتے تھے۔جلسہ شروع ہوئے دس پندرہ منٹ گزرے تھے کہ ملاؤں نے ہلہ بول دیا اور جلسہ گاہ پر