شہدائے احمدیت — Page 128
خطبات طاہر بابت شہداء 120 خطبہ جمعہ ا ا / جون ۹۹ ١٩٩٩ء گا جو وقف اور خدمت کے دوران اپنے وطنوں سے دور حادثانی یا طبعی موت سے وفات پاگئے۔مکرم حافظ بشیر احمد صاحب جالندھری قادیان سب سے پہلے مکرم حافظ بشیر احمد صاحب جالندھری کا ذکر کرتا ہوں۔آپ ۱/۸اپریل ۱۹۱۲ء کو صوفی علی محمد صاحب پریذیڈنٹ جماعت احمدیہ لاہور چھاؤنی کے ہاں پیدا ہوئے۔حافظ صاحب کی والدہ ماجدہ حضرت خان صاحب مولوی فرزند علی خان صاحب ناظر بیت المال کی چھوٹی ہمشیرہ تھیں۔حافظ صاحب نے بچپن ہی میں قرآن کریم حفظ کیا۔۱۹۲۴ء میں مدرسہ احمدیہ میں داخلہ لیا اور ۱۹۳۴ء میں مولوی فاضل کا امتحان پاس کر کے مبلغین کلاس میں شامل ہو گئے اور یکم اگست ۱۹۳۶ء کو مبلغ کے فرائض سرانجام دینے لگے۔وفات سے صرف دوروز قبل لدھیانہ میں ایک تبلیغی دورہ سے واپس آئے۔آپ مجلس خدام الاحمدیہ کے ابتدائی دس ارکان میں سے تھے اور نہایت جوش اور اخلاص کے ساتھ مجلس کے کاموں میں حصہ لیتے تھے۔حلقہ وار مجالس کے قیام کے بعد آپ مجلس خدام الاحمدیہ دارالرحمت کے زعیم مقرر ہوئے۔آپ نے نہایت ہی جوش اور اخلاص کے ساتھ مجلس کے لئے انتھک محنت کی۔سانحہ ارتحال اس طرح پیش آیا کہ ۲ رمئی ۱۹۳۸ء کو صبح نماز فجر کی ادائیگی کے بعد خدام الاحمدیہ کے دیگر ممبروں کے ساتھ محلہ دار الرحمت کے اجتماعی و قادر عمل میں شریک تھے کہ دماغ کی رگ پھٹ گئی۔آپ کو فوراً میوہسپتال پہنچایا گیا جہاں ہر ممکن تدبیر کے باوجود پونے نو بجے آپ کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔انالله وانا اليه راجعون۔۲ رمئی کو بعد نماز عصر حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے امیر مقامی کی حیثیت سے باغ میں ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور مرحوم کو بہشتی مقبرہ قادیان میں دفن کیا گیا۔حضرت خلیفتہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سانحہ کا مندرجہ ذیل الفاظ میں تذکرہ فرمایا۔حافظ بشیر احمد صاحب حافظ قرآن، جامعہ کے فارغ التحصیل ، وقف کننده، خدام الاحمدیہ کے مخلص کارکن اور ان نوجوانوں میں سے تھے جن کے مستقبل کی طرف سے نہایت اچھی خوشبو آ رہی تھی مگر اللہ تعالیٰ کی مشیت کچھ اور تھی۔اس نے خدام الاحمدیہ کے لئے ایک مثال اور نمونہ بنانا تھا۔جس جماعت