شہدائے احمدیت — Page 109
خطبات طاہر بابت شہداء 100 خطبہ جمعہ ۲۸ رمئی ۱۹۹۹ء خدمات بجالاتے رہے بعد ازاں آپ کو مرکز میں نائب ناظر اصلاح وارشاد مقرر کیا گیا اور اگلے سال ہی ناظر اصلاح وارشاد مقرر فرما دیا گیا۔اس عہدہ پر آپ نے بارہ سال تک خدمات سرانجام دیں۔آپ ۵/اگست ۱۹۸۳ء بروز جمعہ المبارک ایک تبلیغی سفر پر جاتے ہوئے شیخو پورہ کے قریب کار اور ٹرک کے حادثے میں زخمی ہوئے اور بروقت طبی امداد نہ ملنے کے باعث اپنے مولائے حقیقی سے جاملے۔انالله وانا اليه راجعون مختصر خاندانی حالات یہ ہیں کہ آپ حضرت ذوالفقار علی خان صاحب گوہر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تیسری زوجہ محترمہ کے بطن سے سب سے چھوٹے بیٹے تھے۔آر کے بڑے بھائی مکرم حبیب اللہ خان صاحب ایم ایس سی تھے جوتعلیم الاسلام کا لج میں واقف زندگی پروفیسر رہے ہیں۔ان کے بعد آپ کی ہمشیرہ، اہلیہ صاحبہ محترم خلیل احمد صاحب موگھیری ہیں اور ان کے بعد آپ تھے۔مولانا کی اولاد میں ایک صاحبزادہ مکرم عبدالرب انور محمود خان آف کیلیفورنیا امریکہ اور چار صاحبزادیاں محترمہ فرحت صاحبہ اہلیہ ڈاکٹر صالح الہ دین صاحب حیدر آباد دکن محترمه شوکت گوہر صاحبہ اہلیہ ڈاکٹر لطیف احمد صاحب قریشی، محترمہ نصرت جہاں صاحبہ گائنا کالوجسٹ فضل عمر ہسپتال ربوہ اور محترمہ امتہ الحئی فضیلت صاحبہ اہلیہ مکرم سید حسین احمد صاحب مربی سلسلہ ہیں۔اب اس ذکر کو آج میں حضرت مولا نا عبد المالک خان صاحب شہید کے ذکر پر ختم کرتا ہوں اور اس کے بعد جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے کچھ نہ کچھ تفصیل تو شاید بیان کرنی پڑے مگر حتی المقدور کوشش کروں گا کہ مختصر ہو۔اللہ تعالیٰ ان کو اعلیٰ علیین میں جگہ عطا فرمائے اور ان کی اولادوں کو جہاں جہاں بھی دنیا میں پھیل چکی ہیں دین و دنیا کی حسنات سے نوازتار ہے اور قیامت تک یہ شہادت کے علم بلند رکھیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ شہداء کے نقش قدم پر چل سکیں۔