شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 97 of 297

شہدائے احمدیت — Page 97

خطبات طاہر بابت شہداء 88 خطبہ جمعہ ۲۸ رمئی ۱۹۹۹ء دس کے تحت انہوں نے اپنی زندگی وقف کی تھی۔تحریک جدید کے مطالبہ نمبر دس کے مطابق صرف زادراہ لے کر کسی غیر ملک میں جائیں گے یہ شرط تھی۔چنانچہ وہ محض زادِ راہ لے کر اس غیر ملک کے لئے روانہ ہوئے اور وہاں پہنچ کر اپنے کاروبار سے تبلیغی کام کو چلانا تھا۔مولوی صاحب نے کاشغر جانے کا ارادہ کیا۔۱۹۳۸ء کے آغاز میں آپ راجہ عدالت خان صاحب کے ساتھ کشمیر پہنچ گئے۔راجہ عدالت خان صاحب کو تو پاسپورٹ نہ مل سکا مگر مولوی محمد رفیق مرحوم کو پاسپورٹ مل گیا تا ہم انہیں کچھ عرصہ سرینگر ٹھہر نا پڑا۔اس قیام سے فائدہ اٹھا کر آپ نے چینی ترکستان کی زبان کافی حد تک سیکھ لی۔گلگت سے کاشغر کا سفر نہایت سخت تھا۔راستہ میں اٹھارہ ہزار دوسوفٹ تک بلند پہاڑ اور طویل برفانی گلیشیئر ز حائل تھے۔مرحوم پیدل سفر کرنے کے لئے بھی تیار تھے مگر ان کے لئے جماعت احمدیہ گلگت نے گھوڑ ا خرید لیا۔آپ بخیریت دوماہ میں کا شغر پہنچ گئے۔کا شغر پہنچ کر انہوں نے درزی کا کام شروع کر دیا پھر کپڑے بیچنے کی دکان ڈال لی۔اس وقت کا شغر روسی ترکستان میں تھا۔گورنمنٹ نے انہیں کچھ دن نظر بند بھی رکھا تا ہم مرحوم اپنا تبلیغی کام برابر سرگرمی سے کرتے رہے۔چنانچہ ان کی تبلیغ سے ہی حاجی آل محمد صاحب اور حاجی جنو داللہ صاحب موضع سلوخ کا شغر مع خاندان احمدی ہوئے ہیں۔تو یہ حاجی جنود اللہ صاحب کا خاندان اب تو دنیا میں اللہ کے فضل سے پھیل چکا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس خاندان کو بہت ترقی دی ہے۔یہ وہی خاندان ہے جو برفوں پر تقریباً گھٹنوں کے بل چلتے ہوئے آخر ہندوستان پہنچے۔محمد رفیق صاحب کو تیسرے سال استسقاء کی بیماری ہوگئی۔یہ جگر کی خرابی سے ہوتی ہے اور اسی بیماری سے آپ وفات پاگئے۔آپ کی وفات کی اطلاع جناب مرزا معظم بیگ صاحب نے گلگت سے حضرت خلیفہ المسیح الثانی کو دی۔مرحوم نے کا شعر میں ہی شادی کی تھی اور پسماندگان میں بیوہ کے علاوہ ایک بچی تھی۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالٰی عنہ نے محمد رفیق صاحب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا اس ( عدالت خان صاحب مرحوم) نے ایک اور نوجوان کو خود ہی تحریک کی کہ میرے ساتھ چلو اور وہ تیار ہو گیا۔اس طرح گو عدالت خان فوت ہو گیا ہے مگر اللہ تعالیٰ نے اس کے بیج کو ضائع نہیں کیا بلکہ ایک دوسرے شخص نے جسے وہ اپنے ساتھ لے گیا تھا احمدیت کے جھنڈے کو پکڑ کر آگے بڑھانا شروع کر دیا اور مشرقی شہر کا شعر میں پہنچ گیا اور وہاں تبلیغ شروع کر دی۔نتیجہ یہ ہوا کہ وہاں کے ایک دوست کو