شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 126 of 297

شہدائے احمدیت — Page 126

خطبات طاہر بابت شہداء 117 خطبہ جمعہ ۴ / جون ۱۹۹۹ء لئے ایک علاقہ کا سفر کر رہے تھے جہاں مسجد اور مشن کی تعمیر کا پروگرام تھا۔راستہ میں کار کو حادثہ پیش آ گیا جس کی وجہ سے شہادت نصیب ہوئی۔یہ حادثہ ۱۵ / دسمبر ۱۹۹۸ء کو پیش آیا۔انـا لـلـه وانا اليه راجعون۔آپ نے بیوہ کے علاوہ دو بیٹے یاد گار چھوڑے ہیں۔ایک کی عمر پانچ سال ہے اور دوسرا تقریب ڈیڑھ سال کا ہے۔مکرم ناصر فاروق سندھو صاحب آخری ذکر جس شہید کا میں اس خطبہ میں کروں گا ان کا نام مکرم ناصر فا روق سندھو صاحب ہے۔مکرم ناصر فاروق صاحب ابن رشید احمد اختر صاحب ۱۷ راگست ۱۹۹۸ء کو پیدا ہوئے۔آپ جسو کی ضلع گجرات کے رہنے والے تھے۔یکم جولائی ۱۹۸۸ء کو جامعہ سے فارغ التحصیل ہوکر چک WB/390 ضلع لودھراں میں دین کی خدمت پر کمر بستہ رہے۔آپ نہایت محنتی ، خادم دین اور جماعتی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے تھے۔جامعہ احمدیہ کے علمی پروگراموں میں بھی نمایاں اعزازات حاصل کئے اور خدام الاحمدیہ کے تنظیمی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔تین سال معاون مدیر تشخیذ الاذہان کے طور پر نمایاں خدمت کی توفیق پائی۔بچوں کے لئے ان کی مختلف کہانیاں اور سبق آموز تحریرات جماعتی رسائل کے علاوہ دیگر ملکی اخبارات میں بھی شائع ہوتی رہیں۔اس پہلو سے آپ کو ملک گیر شہرت حاصل رہی۔۱۳ راپریل ۱۹۹۹ء کو بہاولپور ریلوے اسٹیشن پرٹرین سے اترتے ہوئے حادثہ میں شہید ہو گئے۔انا للہ وانا اليه راجعون۔شہادت کے وقت آپ کی عمر صرف ۲۲ برس تھی اور آپ غیر شادی شدہ تھے۔اللہ تعالیٰ ان سب شہداء کو غریق رحمت فرمائے اور دین و دنیا میں ان کو حسنات سے نوازے اور ان کی اولاد کو بھی ہمہ وقت دینی اور دنیاوی ترقیات عطا فرما تار ہے۔آمین۔