شہدآء الحق — Page 37
۳۷ باب دوم زمانہ حکومت امیر حبیب اللہ خان بادشاہ افغانستان فصل اول تخت نشینی امیر حبیب اللہ خاں اور حضرت سید عبد اللطیف صاحب شہید تخت نشینی : امیر حبیب اللہ خاں جو میر عبدالرحمن خان کا بڑا فرزند تھا۔اور ملکه گلریز ساکن دا خان کے بطن سے بمقام سمر قند ۱۸۷۲ء میں تولد ہوا تھا۔اور امیر عبدالرحمن خان کی طرف سے مقرر شدہ ولی عہد تھا۔اور اپنے والد کی وفات کے بعد ۳ اکتوبر ۱۹۰۱ ء کو تخت نشین ہوا۔اس کے استاد حضرت سید عبد اللطیف صاحب احمدی شہید نے اس کی رسم دستار بندی ادا کی۔جوان دنوں کابل میں تھے۔اور دربار کابل کے معتمد علیہ بھی تھے۔چنانچہ اشد مخالف میرزا شیر احمد اپنی کتاب نجم السعادت میں لکھتا ہے۔۔چوبو د مرد سخندان و پرفن و جرار ببار گاہِ امیر جہاں رسیدش کار ظهور صدق و ارادت نمود مدت چند که تا بقرب بساط امیر شد پیوند یعنی چونکہ حضرت عبد اللطیف ایک سخن دان اور صاحب کمال اور جری انسان تھا۔لہذا امیر کابل کے دربار میں اس کو رسوخ حاصل ہو گیا تھا۔کچھ