شہدآء الحق

by Other Authors

Page 46 of 173

شہدآء الحق — Page 46

۴۶ نے فرمایا کہ بہتر ہو گا۔کہ آپ علماء کا بل کو ایک مقام پر جمع کریں۔اور میں ان سے تحریری مباحثہ کرلوں۔آپ ہر دو فریق کے بیانات دیکھ کر فیصلہ کر لیں۔یہ درخواست منظور کی گئی اور ایک خاص دن پر جامع مسجد واقع بازار کتب فروشی شہر کا بل کے مدرسہ سلطانیہ کے احاطہ میں علماء سے تحریری مباحثہ قرار پایا۔اور مباحثہ کے دن لوگ جوق در جوق مسجد مذکور میں جمع ہوئے اور حضرت شہید کو پا بہ جولاں پولیس کی نگرانی میں وہاں پہنچایا گیا۔آپ کے مقابلہ میں کثرت سے علماء تھے۔اور ان کے سرکردہ شیخ عبد الرازق خاں رئیس و ملائے حضور امیر اور قاضی عبدالروف قندھاری تھے۔مباحثہ تحریری ہوا اور اس مباحثہ کا سر پنج اور منصف ڈاکٹر عبدالغنی پنجابی باشندہ جلال پور جٹاں ضلع گجرات مقرر ہوا۔کابل میں ان دنوں پنجاب کے اہل حدیث میں سے ڈاکٹر عبدالغنی و مولوی نجف علی اور مولوی محمد چراغ تینوں بھائی مختلف عہدوں پر سر فراز تھے اور مقر بان بارگاہِ امیر تھے۔چونکہ وہ حضرت مسیح موعود کے ہم وطن تھے۔اس واسطے ان کو خاص بغض تھا۔کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اوّل المكفرين والمکذبین یہی گروہ تھا۔انہوں نے غلط بیانیوں سے امیر حبیب اللہ خان کے خوب کان بھرے۔مدرسہ سلطانیہ میں ہزار ہا افراد کا ہجوم تھا۔کئی گھنٹوں تک مسلسل مباحثہ رہا۔مگر حاضرین کو کوئی علم نہ دیا گیا۔مباحثہ حیات و وفات حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر صداقت حضرت مسیح موعود پر اور حقیقت جہاد پر تھا۔اختتام مباحثہ پر علمائے کا بل نے باہم مشورہ کیا۔کہ ان کا غذات مباحثہ کو مخفی رکھا جائے اور پبلک میں مشہور کر دیا جائے۔کہ صاحبزادہ عبداللطیف ملامت شد، یعنی