شہدآء الحق

by Other Authors

Page 36 of 173

شہدآء الحق — Page 36

۳۶ فصل ششم امیر عبدالرحمن خان کی وفات خدا تعالیٰ نے جو بڑا ٹھور ہے۔یہ ظلم ناروا پسند نہ کیا۔بلکہ اس نے اپنے غضب کو بھڑ کا یا۔اور • استمبر ۱۹۰۱ء کو امیر عبدالرحمن خان پر فالج گرا۔جس سے اس کا دایاں پہلو بے کار ہو گیا۔ہندوستان اور افغانستان کے حاذق حکیموں اور ماہر ڈاکٹروں نے بہت ہاتھ پاؤں مارے اور بہتیرا علاج کیا۔مگر ڈاکٹریا حکیم کیا چیز ہیں۔جو کسی مغضوب کو خدا کی گرفت سے نجات دلا سکیں۔امیر عبدالرحمن خان کی حالت ہر روز بد سے بدتر ہوتی چلی گئی۔اور طاقت نشست و برخاست بھی سلب ہو گئی۔آخر کا ر فرشتہ اجل نے باذن خداوندی اس کی روح کو ۳ بجے شب بروز جمعرات ۳ /اکتوبر ۱۹۰۱ ء مطابق ۱۹ جمادی الثانی ۱۳۱۹ھ قبض کر لیا۔اور دربار خداوندی میں۔۔بجرم شہادت حضرت ملا عبد الرحمن شہید پیش ہوا۔اور اس کا جسدِ عنصری شہر کا بل ده افغاناں کے بازار شاہی کی بستان سرائے میں دفن ہوا۔جس پر اس وقت ایک عظیم الشان گنبد موجود ہے۔دیدی که خونِ ناحق پروانه شمع را چنداں اماں ندارد که شب را سحر کند دیکھو تاریخ افاغنہ حصہ اول صفحہ ۹۹ مؤلفہ شہاب الدین ثاقب مطبوعہ حمید یہ پریس لاہور اور انگریزی کتاب افغانستان صفحه ۴۳۳ و ۴۳۴