شہدآء الحق

by Other Authors

Page 33 of 173

شہدآء الحق — Page 33

۳۳ جائداد کے مالک اور کثرت سے مریدوں کے پیر تھے۔ان کو ملک اور حکومت میں ایک خاص عزت حاصل تھی۔چنانچہ جب امیر عبدالرحمن خان نے انگریزی گورنمنٹ ہند کے ساتھ تقسیم سرحدات کا معاہدہ ۱۸۹۳ء میں کر لیا تھا۔اور سرحد گرم پر حد بندی ہوئی قرار پائی۔تو گورنمنٹ ہند کی طرف سے آنریبل سر مار ٹیمر ڈیورنڈ اور جناب نواب سر صاحبزادہ عبد القیوم خان ساکن ٹوپی ضلع پشاور نمائندہ مقرر ہوئے۔اور دولت افغانستان کی طرف سے سردار شریندل خان اے گورنر سمت جنوبی اور حضرت سید عبد اللطیف صاحب شہید مقرر ہوئے۔امیر عبدالرحمن خان نے آپ کے متعلق ایک فرمان میں اپنے قلم سے لکھا ہے۔کہ کاش افغانستان میں آپ جیسے ایک دو عالم اور بھی ہوتے اور خوست کے تمام خوانین وکلا اور معتبرین کا آپ کے متعلق اقرار نامہ موجود ہے۔کہ حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب کو ہم پر ہر لحاظ سے فوقیت حاصل ہے۔اور انہیں ہم اپنا سر کردہ تسلیم کرتے ہیں۔بمقام پارہ چنار گرم دن کو یہ کمیشن حد بندی کرتے اور وہ حد قائم کی جاتی۔جس کو ڈیورنڈ لائن کہتے ہیں۔اور رات کو باہم ملاقات بازدید کرتے اور باہم مجالس خورد و نوش اور مضامین متفرقہ پر اظہار خیالات کرتے۔انہی ایام میں پشاور کے ایک سید چن با دشاہ صاحب بھی بطور محرر اس کمیشن میں تھے۔کسی وقت بدوران گفت گو مختلفہ حضرت احمد جری اللہ کے ظہور و بعثت و دعوی کا تذکرہ درمیان آیا اور حضرت سید عبد اللطیف صاحب نے نہایت ا سردار شیر میں دل خان پسر سردار خوشدل خان پسر سردار مهر دل خان پسر سردار پائندہ خان تھے۔یہ قندہار کے سردار کہلاتے تھے۔