شہدآء الحق

by Other Authors

Page 163 of 173

شہدآء الحق — Page 163

حضرت احمد اور ان کے مشن سے ہندوستان اور افغانستان سے باخبر ہوں۔ہم باشندگان افغانستان جو حالات سے باخبر رہتے ہیں۔وہ جماعت کی مساعی جمیلہ اور تبلیغ اسلام کو بہ نظر استحسان دیکھتے ہیں۔اور خود امیر صاحب اور اراکین سلطنت بھی واقف ہیں۔مگر ہمارا ملک اکثر علم سے غافل اور بے بہرہ ہے اس واسطے افغانستان میں علم دین نہیں۔امید ہے خدا تعالیٰ وہ وقت جلد لائے گا۔کہ افغانستان بھی آپ کے کار ہائے نمایاں کی قدر کرے گا۔میں امیر صاحب سے بھی جماعت احمدیہ کے نیک خیالات کا ذکر کروں گا۔تمام افراد بڑے تپاک سے ملے۔اور جماعت رخصت ہوئی۔یہ واقعات حضرت نعمت اللہ خان کی شہادت سے کچھ ماہ قبل کے ہیں۔دار شجاع الدولہ گورنر : جب حضرت نعمت اللہ خان قید میں تھے۔معلوم ہوا۔کہ گورنر ہرات سردار شجاع الدولہ براہ نوشہرہ پشاور آئے ہیں۔اور کا بل جا رہے ہیں۔خاکسار نے پھر ایک وفد جماعت احمد یہ پشاور کے معزز افراد کا تیار کیا۔اور ڈین ہوٹل میں سردار شجاع الدولہ سے ملاقات کی۔جو باتیں جنرل محمد نادر خان سے کی تھیں۔وہی باتیں سردار شجاع الدولہ سے ہوئیں۔سردار موصوف نے کہا۔کہ میں احمدیت کے حالات سے واقف نہ تھا جس قد رعلم مجھے اب ہوا۔اس سے قبل میں احمدیت سے خائف تھا۔اب میرا خوف دور ہوا۔اور میں آپ احمد یوں کو اپنا مسلمان بھائی جانتا ہوں۔اور اس ملاقات سے دل خوش ہوا۔اور میں امیر صاحب سے بھی یہ واقعات ذکر کروں گا تمام افراد کو پر تپاک طور پر ہاتھ ملا کر رخصت کیا۔