شہدآء الحق

by Other Authors

Page 11 of 173

شہدآء الحق — Page 11

کلمات طیبات کو علماء سابقین کے اجتہادات سے رڈ کیا۔اور کورانہ تقلید آباء و سادات کو ترجیح دی۔نہ صرف حق کا انکار کیا بلکہ شریر بن کر شرارتوں میں نمایاں حصہ لیا۔بعض نے صرف انکار پر اکتفا کیا اور بعض نے قدرے تکذیب بھی کی۔پرا مگر شریر بننا پسند نہ کیا - ولكل درجات مما عملوا خدا تعالیٰ کا سلوک بھی ہر ایک سے اس کے اعمال کے لحاظ سے ہوتا ہے۔اور ہوگا۔خدا وند تعالیٰ نے حضرت احمد پر بطور تسلی و تشفی مندرجہ ذیل وحی نازل کی (۱) کتب الله لاغلبن انا ورسلى یعنی خدا تعالیٰ نے یہ بات لکھ دی ہوئی ہے کہ میں اور میرے رسول ضرور غالب ہوں گے (۲) كان حقاً علينا نصر الـمـؤمـنـيـن یعنی ہم پر واجب ہے کہ ہم مومنوں کی نصرت اور حمایت کریں (۳) جاعل الذين اتبعوك فوق الذين كفروا الى يوم القيمة يعنى ميں تیری متبع جماعت کو تیرے منکر گروہ پر تا قیامت فوقیت بخشوں گا ( ۴ ) انسی معین من اراد اعانتک و انی مهین من اراد اهانتک یعنی میں ان لوگوں کی مددکروں گا جو تیرے مددگار ہوں گے اور میں ان کو ذلیل کروں گا جو تیری ذلت کے جو یاں ہوں گے۔(۵) انا کفیناک المستهزئین میں تیرے ساتھ استہزاء کرنے والوں کو سزا دینے کے واسطے کافی ہوں (۶) ذرنی والمكذبين اني مع الرسول اقوم مجھے اور مکذبوں کو نپٹ لینے دو میں اپنے رسول کے ساتھ کھڑا ہوں - ( ۷ ) ويل يومئذ للمكذبين یعنی اس دن تکذیب کرنے والوں کے واسطے ہلاکت کا دن ہو گا۔(۸) عبرت بخش سزائیں دی جائیں گی۔(۹) اے بسا خانہ ء دشمن که تو ویران کر دی یعنی بہت سے دشمنوں کے گھر ویران ہو جائیں گے۔(۱۰) غرق الاعداء كل غرق یعنی ہم دشمنوں کو تتر بتر کر دیں